رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی سطح پر مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے مؤقف پر قائم


اتوار کو راکٹ داغنے کے تجربے کو شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ملک میں ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جس سے عوام کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔

اتوار کو خلا میں راکٹ بھیجنے اور گزشتہ ماہ جوہری تجربہ کرنے پر عالمی مذمت کے باوجود شمالی کوریا کا اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی ملک میں اور ملک سے باہر کچھ لحاظ سے ان کی پوزیش میں مضوطی کا باعث بن رہا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں نوجوان کم جونگ اُن کو ایک مضبوط رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو امریکہ اور جنوبی کوریا کی فورسز کے خلاف ملک کی خودمختاری کا دفاع کر رہا ہے۔

اتوار کو راکٹ داغنے کے تجربے کو سرکاری ذرائع ابلاغ نے ملک میں ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جس سے عوام کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔

امریکہ کے جوائنٹ سپیس آپریشنز سینٹر نے کہا کہ شمالی کوریا نے راکٹ کے ذریعے دو چیزیں خلائی مدار میں بھیجی ہیں مگر یہ واضح نہیں کہ وہ سگنل بھیج رہی ہیں یا نہیں۔

اس سے قبل 2012 میں بھی شمالی کوریا نے خلا میں ایک سیٹلائٹ بھیجی تھی جو ہر 95 منٹ میں زمین کے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے مگر اس سے کبھی کوئی سگنل وصول نہیں کیا گیا۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ 100 کلو وزنی اس دھاتی سیٹلائٹ میں خلا سے لی گئی تصویریں زمین پر بھیجنے کے لیے کیمرے نصب ہیں۔

اتوار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سیٹلائٹ بھیجنے کی آڑ میں شمالی کوریا کی طرف سے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے تجربے کی شدید مذمت کی تھی سلامتی کونسل نے کہا کہ یہ تجربہ ’’جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے نظام کی ترقی‘‘ میں معاون ثابت ہو گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں میں شمالی کوریا پر جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ 2006 سے اب تک سلامتی کونسل کی طرف سے شمالی کوریا پر چار مرتبہ پہلے سے سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

پیانگ یانگ کی طرف سے راکٹ بھیجنا عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ شمالی کوریا اپنی جوہری قوت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔

2013 میں شمالی کوریا نے ’’معیشت اور جوہری ہتھیاروں‘‘ کی متوازی ترقی کی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس میں دونوں کو ملک کی خود مختاری کے لیے اہم مقاصد بتایا گیا تھا۔

کم جونگ اُن کے خاندان کے لیے 2011 میں لیبیا کے معمر قذافی کی معزولی ایک انتباہ تھا جس کے بعد انہوں نے اپنے جوہری مؤقف میں مضبوطی پیدا کی ہے۔ معمر قذافی نے ملک کے جوہری پروگرام کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد انہیں معزول کر دیا گیا۔

اتوار کو متنازع راکٹ چھوڑنے کے بعد واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں نے شمالی کوریا پر جہاز رانی، ہوابازی اور تجارت سے متعلق سخت اقتصادی پابندیوں کا مطالبہ کیا تھا جس سے اس کے لیے شدید اقتصادی مشکلات پیدا ہو جائیں۔

تاہم شمالی کوریا کا اہم اقتصادی امداد کنندہ چین سخت پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جو اس کے خیال میں علاقے میں عدم استحکام کا باعث بنیں گی۔

چین کا مؤقف ہے کہ پابندیاں صرف فوجی سازوسامان اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے متعلق دیگر اشیا کی ترسیل یا فروخت پر عائد کی جانی چاہیئں۔

چین تحمل سے کام لینے اور شمالی کوریا سے مذاکرات کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا نے راکٹ چھوڑنے کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا میں میزائلوں کے خلاف جدید دفاعی نظام نصب کرنے پر جلد مذاکرات شروع کریں گے۔

اتوار کو چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین کو ان مذاکرات کے بارے میں شدید تشویش ہے اور کہا کہ میزائلوں کے خلاف دفاعی نظام جزیرہ نما کوریا اور علاقے میں کشیدگی کو فروغ دے گا۔

جاپان نے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے میزائلوں کے خلاف جدید دفاعی نظام پر غور کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG