رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کی جنوبی کوریا کو جنگ کی دھمکی


پیانگ یانگ حکومت نے جمعے کو مسلسل تیسرے روز بھی عالمی ادارے کی نئی پابندیوں کے خلاف سخت بیانات کا سلسلہ جاری رکھا۔

شمالی کوریا نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے پڑوسی ملک جنوبی کوریا نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس کے خلاف عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی حمایت کی تو وہ اس پر حملہ کردے گا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے رواں ہفتے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں دسمبر میں کیے جانے والے شمالی کوریا کے راکٹ تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف عائد اقتصادی پابندیاں مزید سخت کرنے کی منظوری تھی۔

قرارداد کی منظوری کے بعد شمالی کوریا نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بین البراعظمی میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے مزید تجربات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی قوتوں کے ساتھ تمام مذاکرات کا بھی بائیکاٹ کردیا تھا۔

پیانگ یانگ حکومت نے جمعے کو مسلسل تیسرے روز بھی عالمی ادارے کی نئی پابندیوں کے خلاف سخت بیانات کا سلسلہ جاری رکھا۔

شمالی کوریا کی 'کمیٹی فار پیس فل ری یونیفیکیشن ود دی سائوتھ' نے اپنے ایک بیان میں پابندیوں کو اپنے ملک کے خلاف اعلانِ جنگ سے تعبیر کیا ہے۔

بیان میں بلواسطہ طور پر جنوبی کوریا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر "کٹھ پتلیوں کے غدار گروپ نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے عمل میں براہِ راست حصہ لیا تو شمالی کوریا اس کے خلاف ٹھوس عملی اقدامات کرے گا"۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کی یہ کمیٹی جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کرتی ہے۔

دریں اثنا شمالی کوریا کے لیے امریکہ کےخصوصی نمائندے گلین ڈیوس نے شمالی کوریا کے جارحانہ بیانات کو "پریشان کن اور نقصان دہ" قرار دیا ہے۔

بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی نیا تجربہ نقصان دہ ہوگا۔
XS
SM
MD
LG