رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی اور جنوبی کوریا منقسم خاندانوں کو آپس میں ملانے پر متفق


بچھڑے خاندانوں کے درمیان آخری بار ملاقات فروری 2014 میں ماؤنٹ کم گانگ کے مقام پر ہوئی۔

شمالی اور جنوبی کوریا نے 60 سال قبل کوریائی جنگ میں بچھڑنے والے خاندانوں کے درمیان ملاقاتیں اکتوبر میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جنوبی کوریا کی یونیفیکیشن کی وزارت نے منگل کو کہا کہ یہ ملاقاتیں 20 اور 26 اکتوبر کے درمیان شمالی کوریا کے خوبصورت تفریحی مقام کم گانگ میں ہوں گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان یہ سمجھوتا جنگ بندی گاؤں پن من جوم میں پیر سے شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔

1950 اور 1953 کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا کمیونسٹ شمالی کوریا اور ڈیموکریٹک جنوبی کوریا میں تقسیم ہو گیا تھا جس کی وجہ سے لاکھوں کوریائی باشندے ایک دوسرے سےجدا ہو گئے تھے۔ ان خاندانوں کی کئی عشروں تک ایک دوسرے سے ملاقات نہ ہو سکی۔

پہلی بار بچھڑے خاندانوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ 2000 میں ہونے والے سربراہ مذاکرات کے بعد شروع ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ ملاقاتیں سالانہ بنیادوں پر شروع ہوئیں۔ تاہم سرحدوں پر تناؤ کی وجہ سے ان میں کمی کر دی گئی۔

ان ملاقاتوں میں حصہ لینے والے افراد میں اکثر کی عمریں 70 اور 80 سال سے زیادہ ہیں اور یہ ملاقاتیں ایک طویل عرصے سے بچھڑے اپنے پیاروں سے ملنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے سرحد کے آر پار خطوں کے تبادلے، فون کال اور ای میل پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

جنوبی کوریا کے تقریباً 66,000 شہریوں نے اس ملاقات میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔ تاہم ہر بار صرف چند سو افراد کو ہی منتخب کیا جاتا ہے۔

بچھڑے خاندانوں کے درمیان آخری بار ملاقات فروری 2014 میں ماؤنٹ کم گانگ کے مقام پر ہوئی۔

یہ معاہدہ گزشتہ ماہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے ایک سمجھوتے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ اُس سمجھوتے سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملی جو انہیں جنگ کے دہانے پر لے آئی تھی۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے آئندہ ماہ حکمران جماعت ورکرز پارٹی کے سترویں یوم تاسیس کے موقع پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تو کشیدگی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے دور میں تقریباً 22,500 افراد ان مختصر ملاقاتوں میں حصہ لے چکے ہیں جن میں 18,800 بنفس نفیس ان ملاقاتوں میں شریک ہوئے جبکہ باقی افراد نے وڈیو لنک کے ذریعے اس میں حصہ لیا۔ جنوبی کوریا کی ہلال احمر کی تنظیم کے مطابق کسی شخص کو بھی دوسری بار ان ملاقاتوں میں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا۔

جنوبی کوریا کے عہدیدار ایک طویل عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی ملاقاتیں تواتر کے ساتھ ہونی چاہیئیں اور ان میں لوگوں کی زیادہ تعداد کو شریک کیا جائے۔

دوسری طرف شمالی کوریا کو یہ پریشانی ہے کہ ایسا ہونے سے ان کے ملک پر خوشحال جنوبی کوریا کے اثر و رسوخ کا دروازہ کھل سکتا ہے جو حکمران جماعت کی اقتدار پر گرفت کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG