رسائی کے لنکس

logo-print

میزائل تجربے کی کامیابی پر شمالی و جنوبی کوریا کے متضاد دعوے


شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ہفتہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر امریکہ اپنی سالانہ فوجی مشقیں ملتوی کر دے تو ان کا ملک جوہری تجربات سے باز رہنے کو تیار ہے۔

شمالی کوریا نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ اس نے آبدوز کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جس کی نگرانی ملک کے رہنما کم جونگ اُن نے کی۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "کے سی این اے" نے ہفتہ کو کیے گئے تجربے کو "عظیم کامیابی" قرار دیا، حالانکہ اس کے حریف جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس کے برعکس دعویٰ کیا ہے۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے یونہاپ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ میزائل تقریباً 30 کلومیٹر تک ہی پرواز کر سکا اور بظاہر یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق آبدوز سے ایک مزائل سمندر کی طرف داغا گیا تھا۔ فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ سیول شمالی کوریا پر نظر رکھتے ہوئے پوری طرح دفاعی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے بیلسٹک میزائل کے تجربات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" نے ترجمان جان کربی کے حوالے سے کہا کہ "امریکہ شمالی کوریا پر ایسے اقدام سے باز رہنے پر زور دیتا ہے جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بنیں۔"

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ہفتہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر امریکہ اپنی سالانہ فوجی مشقیں ملتوی کر دے تو ان کا ملک جوہری تجربات سے باز رہنے کو تیار ہے۔

وزیرخارجہ ری سو ینگ نے پہلی مرتبہ کسی مغربی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا ہے جس میں انھوں نے پیانگ یانگ کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ امریکہ نے شمالی کوریا کو اپنے دفاع کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف دھکیلا۔

"جزیرہ نما کوریا میں جوہری جنگی مشقیں بند کریں، پھر ہم بھی اپنے جوہری تجربات روک دیں گے۔"

XS
SM
MD
LG