رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے میں دو اہلکار ہلاک


فائل

افغانستان سے ملحقہ شمالی وزیرستان کے ایک علاقے میں نامعلوم عسکریت پسندوں کے حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

انتظامی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے جمعرات کی صبح تحصیل بویا کے خٹی کلی میں سیکورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا۔

حملے میں پانچ سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ تاہم، ایک نائب صوبیدار سمیت دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ تین زخمی ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

حکام نے حملہ آوروں کے فرار ہونے کی تصدیق کی ہے۔ حملے کے بعد غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ کرکے سیکورٹی اہکاروں نے علاقے میں تلاش مہم شروع کر دی ہے۔ ابھی تک سول اور سیکورٹی حکام نے حملے کے بارے میں باقاعدہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سینئر تجزیہ نگار صفدر ڈاور نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ چونکہ عام لوگوں کے پاس اپنی حفاظت کیلئے اسلحہ نہیں ہے۔ لہٰذا، حکومت کو ان لوگوں کو اپنی حفاظت کیلئے اسلحہ رکھنے کی اجازت کا کوئی طریقہٴ کار وضع کرنا چاہئے۔

پچھلے چند ماہ سے شمالی وزیرستان میں تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ان واقعات میں گھات لگا کر قتل کرنے کے بعد نامعلوم مسلح افراد گھروں میں گھس کر حکومت اور سیکورٹی فورسز کے حامی افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG