رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: بم دھماکے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک بم دھماکے سے کم از کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

قبائلی انتظامیہ کے مطابق غلام خان کے علاقے میں فرنیئر کور کے اہلکار معمول کے گشت میں مصروف تھے کہ ان کی گاڑی سڑک میں نصب بم سے ٹکرا گئی۔

دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جب کہ اس پر سوار تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہیں سکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچیں لاشوں کو اسپتال منتقل کر کے علاقے میں نامعلوم شدت پسندوں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی۔

تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن ایک عرصے تک مقامی و غیر ملکی شدت پسندوں کی آماجگاہ رہنے والے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسند دیسی ساختہ بم حملوں میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

پاکستانی فوج مختلف سکیورٹی آپریشن کر کے قبائلی علاقوں سے شدت پسندوں کو صفایا کرنے کا بتاتی ہے لیکن اب بھی شدت پسند تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں شمالی وزیرستان میں ہی فوجی کی ایک گاڑی پر عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک افسر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے راہ فرار اختیار کر کے افغان علاقوں میں چھپے شدت پسند یہ کارروائیاں کرتے ہیں اور کابل کو چاہیے کہ وہ اپنی جانب سرحد کی نگرانی کے موثر اقدام کرے تاکہ ان شدت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو ختم کیا جا سکے۔

تاہم افغانستان اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستانی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں پر عائد کرتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ پاکستان ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ایسے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہے اور پاکستانی علاقوں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG