رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں زچہ بچہ کی شرح اموات میں کمی کے لیے کوشاں بین الاقوامی ادارہ جھپائگو


فائل فوٹو

پاکستان میں حکومت اور قومی اور بین الاقوامی سطح کے اداروں کی جانب سے ماؤں اور بچوں کی شرح اموات میں کمی اور ان کی صحت کی بہتری کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی ادارے بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ایسا ہی ایک ادارہ ہے جھیپائگو۔

امریکی ریاست میری لینڈ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی سے منسلک یہ ادارہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ملکوں میں ماں اور بچوں کی صحت کی بہتری اور ان کی شرح اموات میں کمی کے لیے کوشاں ہے۔ جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

ایشیا اور لاطینی امریکہ کے لیے جھیپائیگو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نبیل اکرم نے ،جو جان ہاپکنز یونیورسٹی کے بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ بی ہیوئیرسوسائٹی سے وابستہ ہیں ،گزشتہ دنوں وائس اف امریکہ کے پروگرام ہر دم رواں ہے زندگی میں شرکت کی اور ادارے کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے کہا جھپائیگو، جو اب ایک انٹر نیشنل فلاحی ادارہ ہے، بالٹی مور میں قائم جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک چھوٹے سے پراجیکٹ سے شروع ہوا تھا جس کا مقصد پاکستان اور دنیا بھر کے ملکوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی تربیت کے لیے ماہرین بھیجنا تھا۔ اب اس کا دائرہ دنیا کے 45 ملکوں تک پھیل چکا ہے ۔ یہ ادارہ ماں اور بچے کی صحت کی دیکھ ، خاص طور پر زچگی کے دوران ماں اور نو زائیدہ بچوں کی ہلاکتوں میں کمی لانے کے لیے کام کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جان ہاپکنز سے منسلک اس ادارے کا مقصد اپنی یونیورسٹی اور دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں صحت سے متعلق تازہ ترین تحقیق اور پیش رفت کا فائدہ ان ملکوں کی پس ماندہ خواتین تک پہنچانا ہے جہاں وسائل اور صحت کی سہولتوں کی کمی ہے۔

دنیا بھر میں پس ماندہ خواتین کی صحت بہتر بنانے کے لیے ادارے کے طریق کار سے متعلق ڈاکٹر نبیل اکرم نے کہا کہ جھیپائگو حکومتوں اور وہاں صحت کے سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ مل کر ڈاکٹروں، نرسوں ، اور صحت کے کارکنوں کو انہی کے سسٹمز کے اندر اعلی درجے کی تربیت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ کم تر وسائل کے ساتھ ماؤں اور بچوں ان ہلاکتوں سے بچا سکیں جنہیں تھوڑی سی توجہ اور عمومی وسائل کی مدد سے روکا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نبیل اکرم نے کہا کہ ان کا ادارہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے بھی کام کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ45 برسوں میں جھپائکو 155 ملکوں تک پہنچ چکا ہے اور وہاں زچہ بچہ کی صحت کے ساتھ ساتھ تپ دق، پیپا ٹائٹس ، ملیریا صحت عامہ کے دوسرے مسائل پر بھی کام کررہا ہے۔

پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق جھپائکو پروگرام کی ٹیکنیکل اور پروگرام ایڈوائزر ڈاکٹر فرحانہ شاہد نے ،جو زچہ بچہ کی شرح اموات میں کمی سے متعلق یو ایس ایڈ کے ایک حالیہ پروگرام کی نگران تھیں بتایا کہ پاکستان میں ماں اور بچوں کی صحت سے متعلق متعدد قومی اور بین الاقوامی پروگراموں کے نتیجے میں کچھ مثبت تبدیلیاں آئی ہیں مثلاً اب دیہی خواتین میں بچوں کی پیدائش گھر کی بجائے اسپتالوں میں کرانے کا رجحان بڑھا ہے۔ دوران حمل چیک اپ کا رجحان دونوں دیہی اور شہری خواتین میں حمل کے دوران چیک اپ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم زچہ اور بچہ میں اموات کی نمایاں شرح بدستور ایک چیلنج ہے جس پر قابو پانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے اور بین الاقوامی ادارے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماں کی صحت کی بہتری کا ایک بہت اہم طریقہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ دینا ہے جس کے بارے میں ادارے کے کلینک میں آنے والی خواتین کو آگاہی اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG