رسائی کے لنکس

برکس اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار پر بات کرنا مناسب نہیں : چین


خوا چن ینگ (فائل)

پاکستان کے سابق سفیر ظفر ہلالی نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان چین کی طرف سے اس کے موقف میں کسی تبدیلی کی عکاس نہیں ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے چین میں ہونے والے برکس ملکوں کے سربراہ اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کے معاملے کو اٹھانا کسی طور مناسب نہیں ہو گا۔

واضح رہے چین کے شہر چیامن میں تین سے پانچ ستمبر برکس ملکوں کی سربراہی اجلاس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شرکت کریں گے اور متوقع طور پر اس موقعہ پر وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان خوا چن ینگ نے معمول کی میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کے انسداد دہشت سے متعلق کردار پر بھارت کو کچھ تحفظات ہوں گے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس معاملے کو سربراہ اجلاس کے دوران اٹھایا جانا چاہیے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا صدر ٹرمپ کی پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور بھارت کی طرف سے پاکستان سے متعلق بعض تحفظات کے معاملے پر برکس اجلاس کے دوران بات ہو گی تو خوا نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کوشش کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ چین انسداد دہشت گردی کے خلاف تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

برکس دنیا کی پانچ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل تنظیم ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ پاکستان اگرچہ اس تنظیم کا رکن نہیں ہے اور اگر اس کے سربراہ اجلاس میں پاکستان کے بارے میں کوئی بات ہوئی تو وہ اسلام آباد کیلئے تشویش کا باعث ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے سابق سفیر ظفر ہلالی نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان چین کی طرف سے اس کے موقف میں کسی تبدیلی کی عکاس نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ " بھارت ہر فورم پر پاکستان مخالف موقف کا اظہار کرتا رہتا ہے اور ادھر بھی وہ ضرور کوشش کرے گا ۔ لیکن چین کا موقف بھی واضح ہے کہ پاکستان کے کردار کو تسلیم نہ کرنا حقائق کو جھٹلانا ہے اور چین یہ بات بار بار کہہ چکا ہے اور اب پاکستان کا اس جگہ ذکر کرنا جہاں بھارت بھی موجود ہو مناسب نہیں ہے۔"

امریکی انتظامیہ کی افغانستان اور خطے سے متعلق حال ہی میں سامنے والی پالیسی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ۔ چین روایتی طور پر پاکستان کاایک قریبی حلیف ہے جس نے سب سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کے پاکستان سے متعلق بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ وہ ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان میں ایسی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG