رسائی کے لنکس

logo-print

خیبرپختونخوا: خواتین کو ہراسانی سے بچانے کے لیے اداروں کو نوٹس


صوبائی محتسب کے دفتر کو خواتین کو ہراساں کرنے کی 38 شکایت موصول ہوئیں جن میں سے 16 پر کارروائی کی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے صوبائی محتسب کے دفتر سے حال ہی میں نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ ان نوٹسز کے جواب میں خواتین بڑی تعداد میں شکایات درج کرا رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب رخشندہ ناز کے دفتر سے لگ بھگ ایک ہزار اداروں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ ان نوٹسز کے جواب میں لگ بھگ 700 اداروں نے اب تک رابطہ قائم کر کے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کمیٹیاں قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خیبر پختونخوا کی روایات کے باعث ماضی میں مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم تھی۔ لیکن اب اس میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

دفاتر میں کام کرنے والی بیشتر خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر خاموشی اختیار کر لیتی تھیں۔ اس کے سدباب کے لیے صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے سخت اقدامات کیے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے بتایا کہ اداروں کو نوٹسز جاری ہونے کے بعد خواتین کے حقوق کو مدنظر رکھنے سے متعلق بیشتر اداروں کی جانب سے اُنہیں مثبت جواب مل رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر چار سے پانچ ادارے اُن کے دفتر کے ساتھ رابطہ قائم کر رہے ہیں۔

صوبائی محتسب رخشندہ ناز کے بقول خواتین کو ہراساں کرنے کی 38 شکایت موصول ہو چکی ہیں جن میں سے 16 پر کارروائی کی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)
صوبائی محتسب رخشندہ ناز کے بقول خواتین کو ہراساں کرنے کی 38 شکایت موصول ہو چکی ہیں جن میں سے 16 پر کارروائی کی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)

رخشندہ ناز نے بتایا کہ اب تک اُن کے دفتر کو خواتین کو ہراساں کرنے کی 38 شکایت موصول ہو چکی ہیں جن میں سے 16 پر کارروائی کی گئی ہے۔

اُنہوں نے خواتین کی جانب سے شکایات درج کرنے کا طریقہ کار بتاتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون ایک عام کاغذ پر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تحریری شکایت درج کر کے صوبائی محتسب کے دفتر کو مطلع کر سکتی ہے۔

اُن کے بقول اداروں کو خطوط ارسال کرنے اور ان کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ اکتوبر میں مکمل ہو جائے گا جس کے بعد نومبر اور دسمبر میں کمیٹیوں کی تشکیل بھی مکمل ہونے کی توقع ہے۔

رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ آئندہ سال 31 جنوری کے بعد باقاعدہ طور پر مختلف اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو فراہم کردہ مراعات کے علاوہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے مانیٹرنگ شروع کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین کے مطابق جس ادارے میں خواتین کام کرتی ہیں وہاں ایک خاتون ممبر سمیت تین ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی ہوگی جو خواتین کے تمام تر حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد کرے گی۔

صوبائی محتسب کے بقول اگر کسی ادارے میں خاتون کارکن کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ رونما ہوا تو خصوصی کمیٹی ذمہ دار فرد کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کر سکتی ہے۔

'عورت فاؤنڈیشن' سے منسلک صائمہ منیر نے خاتون محتسب کے دفتر کی جانب سے شروع کردہ اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراسانی سے بچانے کے لیے قانون بہت کمزور ہے جس میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے امکانات بہت کم ہیں۔

ان کے بقول صوبائی محتسب کے اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف خواتین میں حقوق کے حوالے سے شعور کی آگاہی کا موقع ملے گا بلکہ سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کی بھی حوصلہ شکنی کی جاسکے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG