رسائی کے لنکس

logo-print

گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان نے کئی حوالوں سے ذمہ دار کردار ادا کیا ہے: مائیکل کرپن


یہ واقع ہے کہ القاعدہ کئی برسوں سے نیوکلیئر مواد تک رسائی اور جوہری مہارت کے حصول کی کوشش میں ہے ۔ اِس لیے، اِس بارے میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے:میتھیو بن

ہینری ایل سمتھ سن سینٹر کے ماہر تجزیہ کار، مائیکل کرپن نے 9/11کے بعد لیے گئے اقدامات پرپاکستان کی تعریف کی ہے، جو کہ، اُن کےبقول، کئی حوالوں سے ‘ذمہ دار’ نوعیت کے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ واشنگٹن میں جاری دوروزہ نیوکلئیر سکیورٹی کے سربراہی اجلاس میں امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے پاس ایک موقع میسر ہے کہ ‘وہ جوہری شعبے میں پاکستان کی کامیابیوں کو تسلیم کریں۔’

امریکہ گذشتہ ساٹھ برسوں کے دوران پہلی بار نصف سینکڑے کے قریب عالمی رہنماؤں کی ایک ساتھ میزبانی کر رہا ہے۔پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر سے سربراہان واشنگٹن میں منعقدہ نیوکلیئر سکیورٹی کے اجلاس میں شریک ہیں۔

مبصرین اِس اجلاس کو غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ اُن کے خیال میں ایسے وقت جب القاعدہ کے دنیا بھر میں دہشت گرد نیٹ ورک فعال نظر آتے ہیں اور یہ تنظیم جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں کرتی بھی نظر آتی ہے، دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے اِس اجلاس کے نتائج بے حد اہمیت کے حامل ہوں گے۔

میتھیو بن، ہارورڈ یونی ورسٹی کے کینیڈی سکول آف گورنمنٹ میں ایسو سی ایٹ پروفیسر اور نیوکلیئر سکیورٹی سینٹر فور نان پرولیفریشن کے ماہر ہیں۔ وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے خصوصی گفتگو میں اُنھوں نے سربراہ اجلاس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ چالیس سے زائد صدور اور وزرائے اعظم کا نیوکلیئر سکیورٹی پر غور کرنے کے لیے جمع ہونا غیر معمولی کام ہے، اور اِس میں توجہ اِس بات پر ہوگی کہ جوہری ذخائر کو دہشت گردوں سے کس طرح محفوظ رکھا جائے، اور یہ کہ دہشت گردوں کو نیوکلیئر بم نہ بنانے دیا جائے ۔

ایک سوال پر کہ کیا القاعدہ واقعی نیوکلیئر بم بنانے یا ہتھیاروں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے، میتھیو بن کہتے ہیں کہ اِس کا خطرہ موجود ہے۔ یہ واقع ہے کہ القاعدہ کئی برسوں سے نیوکلیئر مواد تک رسائی اور جوہری مہارت کے حصول کی کوشش میں ہے ۔ اِس لیے، اِس بارے میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

کیا اِس کا یہ مطلب لیا جائے کہ سربراہ اجلاس میں گفتگو دہشت گردوں کو نیوکلیئر اسلحے سے روکنے پر مرکوز رہے گی۔ ایران، شمالی کوریا کے متنازع جوہری پروگرام پر بھی دھیان دیاجا سکتا ہے، اس سوال کے جواب میں میتھیو بن نے کہا کہ اُن کے خیال میں اِس اجلاس میں ذہن اِس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز رہے گا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی یورینیم اور پلوٹونیم موجود ہے، جہاں کہیں بھی جوہری اسلحہ موجود ہے وہ محفوظ ہے، دہشت گردوں کے ہاتھ میں نہیں جاسکتا۔ یہ اجلاس، ایران اورشمالی کوریا کے جوہری پروگرام جیسے مشکل سوال پر غور کے لیے نہیں ہے۔

روس امریکہ تخفیفِ اسلحہ سے متعلق سوال پر کہ کیا سٹارٹ ون کے اثرات اس اجلاس پر بھی پڑ سکتے ہیں، میتھیو بن نے کہا کہ ایسا سیاسی ماحول ضرور ہوگا جس میں باقی ملک بھی اپنے جوہری اسلحے میں تخفیف چاہیں گے۔ امریکہ آگے چل کر، نیوکلیئر سکیورٹی کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو بھی قائل کرنا چاہے گا۔

پاکستان اور بھارت جوہری ممالک ہیں لیکن وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کرنے پر رضامند نہیں ہیں۔ جب اُن سے پوچھا گیا گیا کہ اِس حوالے سے کوئی پیغام دینا چاہیں گے، تو اُن کا کہنا تھا کہ اِس اجلاس میں اِن دونوں ممالک کے لیے اہم پیغام یہی ہوگا کہ وہ دیگر بڑے جوہری ممالک کی اُن کوششوں میں شریک ہوں جن کا مقصد ہر طرح کے جوہری ذخائر کو دہشت گردوں کی پہنچ سے دور رکھنے کو یقینی بنانا ہے۔

مائیکل کرپن، واشنگٹن میں ہینری ایل سمتھ سن سینٹر کے شریک بانی اور سکیورٹی امور کے ماہر ہیں۔ وائس آف امریکہ کی پشتو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُنھوں نے پاکستان کے نقطہٴ نظر سے اِس جوہری سربراہ اجلاس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے موضوع کی نسبت سے پاکستان اور بھارت سے زیادہ اہمیت کا حامل شاید ہی کوئی اور ملک ہوگا، کیونکہ دونوں ملکوں میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی بنسبت دہشت گردوں کی کارروائیاں زیادہ نظر آتی ہیں۔

اِ س لیے، اِن دونوں ممالک پر زیادہ توجہ رہے گی کہ وہ اپنا جوہری پروگرام محفوظ سے محفوظ تر بنائیں اور پاکستان میں تو جوہری سائنس داں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی موجودگی بھی اہمیت کی حامل ہے۔ البتہ، آگے چل کر مائیکل کرپن پاکستان کی تعریف کرتے ہیں کہ اُس نے 9/11کے بعد کئی حوالوں سے ذمہ دار اقدامات کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ واشنگٹن اجلاس میں امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ جوہری شعبے میں پاکستان کی کامیابیوں کو تسلیم کریں۔

XS
SM
MD
LG