رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری مذاکرات: حتمی تاریخ سر پہ، پیش رفت سست


جب امریکی وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ آیا اُنھیں اِس بات کی توقع ہے کہ ایران کے مذاکرات کار سمجھوتے تک پہنچنا چاہتے ہیں، تو جان کیری نے کہا کہ، "دیکھا جائے گا"۔

ایسے میں جب 30 جون کی حتمی تاریخ کے اندر ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے امکانات دھیمے پڑ گئے ہیں، امریکی حکام نے پیر کے روز بات چیت کا ایک نیا دور شروع کیا، جس میں سربراہ ضابطہ کار شریک ہیں۔

ویانا میں ہونے والے اس اجلاس میں امریکی وفد کی قیادت وزیر خارجہ جان کیری کر رہے ہیں، جس نے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے ڈائرکٹر جنرل، یکیا امانو سے ملاقات کی۔

مذاکرات میں شرکت کے لیے آسائش سے آراستہ، پیلس کوبرگ ہوٹل پہنچے پر، کیری نے بتایا کہ ’ہم کام جاری رکھے ہوئے ہیں، اس لیے کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا‘۔

جب اُن سے پوچھا گیا کیا آیا اُنھیں اِس بات کی توقع ہے کہ ایران کے نیوکلیئر مذاکرات کار سمجھوتے تک پہنچنا چاہتے ہیں، کیری نے کہا کہ، ’دیکھا جائے گا‘۔

پیر کے دِن کی بات چیت میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف موجود نہیں تھے۔ وہ اتوار کی شام گئے ایران روانہ ہوگئے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ وہ منگل تک ویانا لوٹ آئیں گے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاعات دی ہیں کہ اُن کی ملک واپس پہلے سے طے تھی۔

کیری اور ظریف نے اتوار کو ملاقاتوں کے کئی دور کئے۔ کیری کی ملاقات دیگر عہدے داروں سے بھی ہوئی جن میں برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ اور جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹائین مائر شامل ہیں۔

اتوار کو ایران، امریکہ اور یورپی وفود سے تعلق رکھنے والے اہل کاروں نے یہ بات تسلیم کی کہ بات چیت خودساختہ منگل کے روز حتمی تاریخ کے بعد بھی جاری رہے گی۔

یورپی یونین کی بیرونی پالیسی کی سربراہ، فریڈریکا مغیرنی نے اخبار نمائندوں کو بتایا کہ بات چیت ہمیشہ ہی سخت رہی ہے۔ لیکن، مذاکرات کار اُسی صورت میں سمجھوتے تک پہنچ پائیں گے اگر ’مضبوط سیاسی عزم‘ موجود ہوگا ۔

کئی برس سے جاری بات چیت کے عمل میں تاخیر کے معاملات عام رہے ہیں، جس بات چیت میں ایران اور دیگر ملکوںٕ کا ایک گروپ شریک رہے ہیں، جن میں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی شامل ہیں۔

بات چیت کی تفصیل کے بارے میں مذاکرات کاروں نے لب کشائی نہیں کی۔ تاہم، مشکل نکات جن پر بات اٹکی ہوئی ہے اُن میں اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے سے تعلق رکھنے والے معائنہ کاروں کی ایرانی مقامات تک رسائی کے علاوہ تعزیرات اٹھائے جانے کی رفتار کا معاملہ شامل ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں محکمہٴخارجہ کےاسٹریٹجک مواصلات سے متعلق ایک سینئر مشیر، میری ہارف نے بتایا ہے کہ وزیر خارجہ کیری اور ایرانیوں کو علم ہے کہ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہیں۔

ہارف کے بقول، ’اب بھی کچھ انتہائی سخت کام کیا جانا باقی ہے‘۔

کچھ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ طے کرنے کی اصل حتمی تاریخ نو جولائی ہے۔ اس کے بعد، امریکی کانگریس کے پاس سمجھوتے کا جائزہ لینے کے لیے 30 سے 60 دِن کا وقت ہوگا۔

XS
SM
MD
LG