رسائی کے لنکس

logo-print

نیو یارک بس ٹرمینل حملہ کیس میں ملزم کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی


عقائداللہ (فائل فوٹو)

نیو یارک شہر میں ایک بس ٹرمینل پر سال 2017ء میں بم حملے کی سازش میں ملوث شخص عقائد اللہ کو الزام ثابت ہونے کے بعد جمعرات کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے اعلامئے کے مطابق، نیو یارک کے علاقے بروکلین کے رہائشی انتیس سالہ عقائداللہ نے، جس کے پاس امریکہ میں گرین کارڈ یا مستقل رہائش کا اجازت نامہ موجود تھا، گیارہ دسمبر 2017ء کو نیویارک سٹی کی پورٹ اتھارٹی کے علاقے میں واقع بس ٹرمینل پر بم حملے کی کوشش کی تھی۔

عقائد اللہ کا تعلق بنگلہ دیش سے بتایا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے اعلان کے مطابق، عقائداللہ نے دہشت گردی کا یہ منصوبہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کی ایما پر بنایا۔

اعلان کے مطابق، سماعت کے دوران عقائداللہ نے داعش سے اپنے تعلق کو تسلیم کیا تھا۔

وفاقی جیوری نے بس ٹرمینل کیس کو تفصیل سے سنا اور شنوائی کے سلسلے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے جرم ثابت ہونے کا اعلان کرتے ہوئے عقائداللہ کو سزا وار ٹھہرایا۔

ان پر ہتھیار رکھنے، دہشت گردی کے عمل میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت اور جانی نقصان میں شرکت کے ارادے کے الزام پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

دہشت گردی کے اس منصوبے میں عقائد اللہ نے پائپ بم سینے سے باندھ کر مین ہٹن کے مرکزی علاقے میں بس ٹرمینل پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو نشانہ بنانا تھا۔

تاہم، اس حملے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آور کو دبوچ کر زیر حراست لے لیا تھا۔

حملے کے فوری بعد کیمرہ فوٹیج پر مبنی ریکارڈنگ کا ثبوت منظر عام پر آیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے وہ دہشت گردی پر مبنی اقدام لینے سے قبل نیو یارک کے سب وے سسٹم سے گزر کر جا رہا ہے۔

فرد جرم میں دیسی ساختہ بم حملے کی تفصیل جب کہ عدالتی کارروائی کے دوران کیمرہ فوٹیج کے علاوہ شہادتیں بھی پیش کی گئیں۔

محکمہ انصاف کی قومی سلامتی ڈویژن کے معاون اٹارنی جنرل، جان سی ڈمرز نے اپنے بیان میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ عقائد اللہ نے پائپ بم تیار کیا اور نیویارک سٹی کے مرکز میں واقع بس ٹرمینل کو ہدف بنانے کی سازش کی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو جانی و مالی نقصان پہنچایا جاسکے۔ ''اور یہ کہ عدالتی چارہ جوئی اور سماعت کے دوران ملزم نے اس بات کا اقرار کیا کہ ان کا مقصد داعش کی جانب سے تباہی پھیلانا تھا''۔

ایک بیان میں معاون اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ پائپ بم حملے کی سازش سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ داعش کے حامی ہماری صفوں میں موجود ہیں جن کے عزائم دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فرد جرم ثابت ہونے اور سزا سنائے جانے سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ دہشت گرد عدالتی احتساب سے بچ نہیں سکتے۔

معاون اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپنے جرم کی پاداش میں عقائد اللہ باقی عمر قید میں گزارے گا۔

ایف بی آئی سے تعلق رکھنے والے انسداد دہشت گردی کے امور پر قائم مقام اسسٹنٹ ڈائریکٹر، پیٹرک ریڈن نے کہا ہے کہ مجرم نے بے گناہ امریکیوں کی جان لینے کی کوشش کی جو اپنے روزمرہ کے کام کاج میں مصروف تھے۔

پیٹرک نے کہا کہ عمر قید کی سزا ہونے کے بعد اس بات کی تسلی ہو گئی ہے کہ یہ مجرم اب کوئی مزید دہشت گردی نہیں کر پائے گا اور اسے قانون کے مطابق سزاوار قرار دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG