رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اسلام کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا: صدر اوباما


امریکی صدر براک اوباما، اُن کی بیگم مشیل اور نائب صدرجو بائیڈن نے11ستمبر2001ء کے دہشت گردحملوں کی نویں برسی پر منعقد ہونے والی سوگوارانہ تقریبات میں شرکت کی۔

متعدد معززین کے ہمراہ نائب صدرجو بائیڈن نیویارک سٹی کے گراؤنڈ زیرو پرمنعقد ہونے والی یادگاردعائیہ تقریب میں شریک ہوئے، جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹرکے جڑواں ٹاور اُس وقت زمین بوس ہوئےتھےجب ہائی جیک ہونے والےدونوں طیارے ٹاورز سے ٹکرائے، اُن کی یاد میں چار بار خاموشی اختیار کی گئی ۔

اِس موقعے پر لواحقین نے دو حملوں میں ہلاک ہونے والے 2752افراد کے نام با آوازِ بلند پڑھے، جب کہ مجمعے میں متعدد لوگوں نے کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر ہلاک ہونے والوں کی تصاویر اور نام درج تھے۔

واشنگٹن سے باہر صدر اوباما نے امریکی فوج کے ہیڈکوارٹرز پینٹگان میں ہونے والی ایک تقریب سےخطاب کیا۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ جن لوگوں نے امریکہ پر حملہ کیا اُنھوں نے محض عمارتوں پر نہیں بلکہ خود امریکہ کے نظریے پر حملہ کیا۔ لیکن اُنھوں نے یہ بات واضح کی کہ امریکہ اسلام کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا۔ اُنھوں نے 11ستمبر کے دہشت گردوں کو لوگوں کا ایک بدحال گروہ قرار دیا جنھوں نے مذہب کا غلط استعمال کیا۔

بعد ازاں، خاتونِ اول مشیل اوباما نے سابق خاتونِ اول لورا بش کے ہمراہ پینسلوانیا کے شینکسویل شہر کے قریب ایک تقریب میں شرکت کی جو 11ستمبر 2001ء کو ہائی جیک ہونے والے چوتھے طیارے کے ایک دیہی علاقے میں گر کر تباہ ہوا، جس سے قبل مسافروں نے ہائی جیکروں پر دھاوا بول دیا تھا۔

اِس رقبے کو قومی یادگار کا درجہ دیا گیا ہے اور مسز اوباما نے جمع ہونے والے لوگوں سے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ آئندہ کی پود کے لیےمقام ِ تفکر، تخیل اور یاد کی علامت بن کر اُبھرے گا۔

اِس سے قبل، اپنے ہفتہ وار خطاب میں صدر اوباما نے اس دِن کو‘قومی دعا اور یاد کا دِن’ قرار دیا ہے، جس روز تقریباً 3000افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ری پبلیکن پارٹی کے ہفتہ وارخطاب میں اریزونا کے سینیٹرجون کیل نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ عسکریت پسنداسلامی نظریےاورمسلمانوں کےاُس عقیدے میں تفریق کی جائے جِس پردنیا بھرکےایک ارب سےزائدافرادعمل پیرا ہیں۔

XS
SM
MD
LG