رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما، عبادی ملاقات: عراق داعش کو شکست دینے میں کامیاب ہوگا


’ہم نے کامیابیاں دیکھی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی، پسپائیوں کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔۔۔۔ داعش کو عراق سے باہر دھکیلا جائے گا اور آخر کار اُسے شکست ہی نصیب ہوگی‘

امریکی صدر براک اوباما نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں امریکہ عراقی فوجیوں کی مدد کرے گا۔ اُنھوں نے یہ بات پیر کے روز جرمنی میں جی 7سربراہ اجلاس سے باہر عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی کے ساتھ ملاقات میں کہی۔

صدر نے کہا ہےکہ ’ہم نے کامیابیاں دیکھی ہیں، لیکن ساتھ ہی پسپائیوں کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔‘

بقول اُن کے، ’داعش کو عراق سے باہر دھکیلا جائے گا اور آخر کار اُسے شکست ہی نصیب ہوگی‘۔

اس بات چیت سے ایک ہی ہفتہ قبل، مسٹر عبادی نے امریکی قیادت والے اتحاد کے ارکان کی جانب سے مزید امداد کی اپیل کی، جب کہ عراقی فوج کی حمایت میں تقریباً ایک برس سے فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔

ملاقات کے بعد، امریکی اور فرانسیسی حکام نے بات چیت کے دوران عراق کے حق میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ لیکن، ساتھ ہی، اُن کا کہنا تھا کہ ’شدت پسندوں کے زیر تسلط علاقوں کو بازیاب کرانے کے لیے ہتھیار اور تربیت کے ذریعے عراقی صلاحیت بڑھانے میں مدد دی جائے گی‘۔

اتوار کو، عراقی فوج نے بیجی کی جانب پیش قدمی کی، جس تیل کی رفائنری والے قصبے پر دولت اسلامیہ نے اس سال کے اوائل میں دوسری بار قبضہ کیا ہے۔

عراق اور شام میں، داعش تیل کی پیداوار کی تنصیبات کو نشانہ بناتا رہا ہے، جس سے ہونے والی آمدن کو وہ اِن دونوں ملکوں میں شدت پسندی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، ایسے میں جب شدت پسند گروہ کو حکومت کی حامی افواج، کرد ملیشیائوں، شام کے باغیوں اور امریکی قیادت میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں کا سامنا ہے۔

اتوار کو سربراہ اجلاس کے پہلے روز، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا کہ مقامی فورسز کو داعش کے شدت پسند گروپ سے لڑنے کی تربیت دینے کے لیے، برطانیہ مزید 125 فوجی عراق روانہ کرے گا؛ جس کے بعد، وہاں موجود برطانوی اہل کاروں کی تعداد بڑھ کر 275 ہوجائے گی۔ ساتھ ہی، ملک کے لڑاکا طیارے اتحاد کے پارٹنرز کو شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائی میں مدد دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG