رسائی کے لنکس

logo-print

امکان ہے کہ روسی طیارہ بم کی وجہ سے تباہ ہوا: صدر اوباما


روس نے طیارے پر کسی بھی دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے تباہی کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ایسا کچھ کہنا قبل از وقت ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ "ان کا خیال ہے" کہ روس کا مسافر طیارہ ایک بم کا وجہ سے تباہ ہوا ہے۔

گزشتہ ہفتہ شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرزبرگ جاتے ہوئے مصر کے جزیرہ نما سینا میں یہ جہاز تباہ ہو گیا تھا اور اس پر سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سیاٹل میں ایک "کیرو" ریڈیو سے گفتگو میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ "ہم اپنے تفتیش کاروں اور انٹیلی جنس برادری کی طرف سے اصل حقائق معلوم کر کے اس پر وقت صرف کریں گے۔ لیکن غالباً یہ امکان ہے کہ جہاز پر کوئی بم ہو سکتا ہے۔"

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی یہ کہتے ہیں کہ "زیادہ امکان یہی ہے کہ بم کی وجہ سے ہی روسی طیارہ گرا ہو۔"

لیکن لندن میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات سے قبل کیمرون کا کہنا تھا کہ ماہرین تاحال طیارے کی تباہی کی اصل وجوہات کا تعین نہیں کر سکے ہیں۔

روس نے طیارے پر کسی بھی دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے تباہی کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ایسا کچھ کہنا قبل از وقت ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ طیارے کی تباہی کی تحقیقات میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

روس کے صدر ولادیمرپوتن نے جمعرات کو کیمرون سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ان سے مغربی ممالک کی طرف طیارے پر بم ہونے کی خبروں پر تبادلہ خیال کیا۔

شدت پسند گروپ داعش بھی اس طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے لیکن مصر کے صدر السیسی اسے "پروپیگنڈہ" قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ داعش کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ 9400 میٹر بلندی پر پرواز کرنے والے طیارے کو نشانہ بنا سکے۔

XS
SM
MD
LG