رسائی کے لنکس

logo-print

پہلے سال میں صدر باراک اوباما کی پاکستان اور افغانستان پر توجہ


2009 میں حکومتِ پاکستان نے اگلے پانچ سال کے لیئے امریکہ کی ڈیڑھ ارب سالانہ امداد کی پیشکش قبول کر لی۔ افغانستان میں ، صدر اوباما نے امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے سویلین عملے کی تعداد تقریباً تین گنا کر دی تا کہ ملک میں تعمیرِ نو کے کام میں زیادہ اچھی طرح مدد دی جا سکے۔ تا ہم سویلین شعبے پر تمامتر توجہ کے باوجود، صدر اوباما کا اصل مقصد یہ ہے کہ علاقے میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے ۔ تفصیل وائس آف امریکہ کے شان مرونی کی رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیے۔

اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے چند منٹ بعد ہی، صدر اوباما نے امریکیوں اور بقیہ دنیا سے یہ وعدہ کیا:

ہم ذمے داری کے ساتھ عراق کو اس کے لوگوں کے حوالے کرنا شروع کر دیں گے، اور بڑی جانفشانی سے افغانستان میں امن کی داغ بیل ڈالیں گے۔

لیکن اس سے پہلے کہ امن قائم ہو، ضروری تھا کہ امریکی قیادت میں کام کرنے والی اتحادی فوجیں افغانستان کے جنوبی صوبوں میں طالبان کا زور توڑیں۔

اتحادی فوجوں نے عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر ہوائی حملوں میں اضافہ کر دیا۔ لیکن ان حملوں سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ مارچ کے آخر میں صدر اوباما نے افغانستان کے لیئے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ تین برس سے ، ہمارے کمانڈر کہتے رہے ہیں کہ انہیں افغان فوجوں کی تربیت کے لیے کس قسم کے وسائل کی ضرورت ہے ۔ لیکن عراق کی جنگ کی وجہ سے انہیں یہ وسائل مہیا نہیں کیئے جا سکے۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔

مسٹر اوباما نے مزید ہزاروں فوجی افغانستان بھیجنے کا حکم دیا۔ بعد میں انھوں نے وہاں فوجی قیادت میں تبدیلی کی اور سویلین آبادی میں ہلاک و زخمی ہونے والے والوں کی تعداد کم کرنے کی واضح ہدایات کے ساتھ جنرل سٹینلی مکرسٹل کا تقرر کیا۔

افغانستان میں امریکہ نے طالبان کے خلاف جنگ تیز کر دی، اور ادھر سرحد پار پاکستان میں، حکومت نے عسکریت پسندوں کے ساتھ امن کا سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن طالبان نے وعدے کی خلاف ورزی کی اور وادیء سوات میں ، دارالحکومت اسلام آباد سے صرف ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے تک کے علاقے تک پیش قدمی کر لی۔ طالبان جنگجووں نے سر ِ عام لوگوں کی پٹائی کی اور لڑکیوں کے بعض اسکولوں کو بند کر دیا۔ پاکستانی حکومت نے جوابی کارروائی کی، اور اس علاقے سے پچیس لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔

2000 کے وسط تک، پاکستانی فوجوں نے ملک کے شمال مغرب میں ، طالبان کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کر لی ۔ علاقے کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب، رچرڈ ہولبروک نے پاکستانی فوج کی تعریف کی اور کہا:

میں نے یہ بات پہلے بھی کہی ہے، اور میں اسے دہرانا چاہتا ہوں: افغانستان اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک کہ مغربی علاقوں میں پاکستان اپنے حصے کا کام نہ کرے۔ اور اب، بالآخر، پاکستانی فوج ، طالبان کے خلاف بڑی اہم فوجی کارروائی میں مصروف ہے۔


اس کے بعدصدر اوباما نے پاکستان پر زور دینا شروع کیا کہ وہ اپنے آپریشن کو وزیرستان کے قبائلی علاقے تک وسعت دے اور ان عسکریت پسندوں سے نمٹےجو افغانستان کے اندر کارروائیوںمیں ملوث ہیں۔

اکتوبر میں عسکریت پسندوں نے پاکستان کے اندر کئی بڑ ے حملے کیئے جن سے ان کے خلاف ملک میں شدید ناراضگی پھیل گئی ۔ پاکستانی فوج کے ترجمان، میجر جنرل اطہر عباس نے جنوبی وزیرستان میں ان طالبان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ صرف پاکستان کے اندر سر گرم ہیں۔

لیکن صدر اوباما کے ملٹری چیف، جنرل مائیک ملن نے وائس آف امریکہ سے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے آپریشن کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کوان طالبان کو بھی نشانہ بنانا چاہیئے جو افغانستان سے فرار ہو کر شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے کی پناہ گاہوں سے کارروائیاں کررہے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں:

یہی وہ طالبان ہیں جو امریکیوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ یہی وہ طالبان ہیں جو افغانوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ یہی وہ طالبان ہیں جو ہمارے اتحادی ملکوں کے فوجیوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ تمام انتہاپسند گروپوں پر دباو ڈالنا ضروری ہو گا۔

دسمبر کے آخر میں یہ امکان اوباما انتظامیہ کے سامنے آیا کہ پاکستانی طالبان بھی ، اپنے افغان ساتھیوں کی طرح ، افغانستان میں اتحادی فوجوں کے خلاف حملے کر رہے ہیں۔ ایک خود کش بمبار نے افغانستان میں امریکی انٹیلی جینس کے سات ارکان کو ہلاک کر دیا۔ مبینہ طور پر یہ حملہ پاکستانی طالبان کے لیڈر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیئے کیا گیا تھا جو اس سے پہلے ، امریکہ کی طرف سے مزائل کے مبینہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ افغان اور پاکستان طالبان، دونوں نے بم کے اس خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

صدر اوباما نے مزید تیس ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ باغیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ختم کر سکیں گے اور سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فورسز کو منتقل کر دیں گے ۔ لیکن اس امید کو حقیقت بنانے کے لیے ، مسٹر اوباما نے افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ امریکہ کی شراکت داری کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG