رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اتنا منقسم نہیں جتنا کچھ لوگ تاثر دے رہے ہیں: اوباما


صدر اوباما نے کہا ہے کہ ڈیلاس حملہ آور سیاہ فاموں کا نمائندہ نہیں، جیسا کہ پچھلے برس چارلسٹن میں افریقی امریکنوں کے تاریخی گرجا گھر پر حملہ کرنے والا فرد سفید فاموں کی نمائندگی نہیں کرتا، جس نے لوگوں کو ہلاک کیا تھا

یورپ کا دورہ مختصر کرتے ہوئے، صدر براک اوباما امریکہ واپس روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اگلے ہفتے ٹیکساس کے شہر ڈیلاس جائیں گے، جہاں گھات لگا کر پانچ پولیس اہل کاروں کی ہلاکت کا مہلک واقعہ پیش آیا ہے۔

اوباما پولینڈ میں نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے ہفتے کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاے کرتے ہوئے، اس بات پر زور دہا کہ ’’بیشک یہ ہفتہ دکھ بھرا رہا ہے، لیکن میں مجھے یقین ہے کہ جتنا کچھ لوگ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکہ اتنا منقسم نہیں ہے‘‘۔

اُنھوں نے ڈیلاس کے حملہ آور کو ’’عقل سے فارغ شخص‘‘ قرار دیا، جو امریکنوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اُن کےحملے کےمحرک کا پتہ لگانا مشکل ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ’’کسی طور پر بھی وہ زیادہ تر امریکیوں کی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتا‘‘۔

صدر اوباما نے کہا کہ ڈیلاس حملہ آور سیاہ فاموں کا نمائندہ نہیں، جیسا کہ پچھلے برس چارلسٹن میں افریقی امریکنوں کے تاریخی گرجا گھر پر حملہ کرنے والا فرد سفید فاموں کی نمائندگی نہیں کرتا، جس نے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔

خاص طور پر اسلحے کے بارے میں کیے گئے ایک سوال پر اوباما نے کہا کہ ’’میں اسلحے کے بارے میں چپ نہیں رہوں گا، کیونکہ یہ مسئلے کا ایک جزو ہے‘‘۔

وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز بتایا کہ اپنے اصل پروگرام کے برعکس، صدر اوباما اسپین کے شہر سویلے میں قیام نہیں کریں گے، اور اتوار کی رات واشنگٹن واپس آئیں گے۔

XS
SM
MD
LG