رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: 'گن کنٹرول' کے لیے اقدامات کا اعلان


صدر نے اپنے خطاب میں کانگریس پر زور دیا کہ وہ امریکہ میں 'گن کنٹرول' کے لیے ان کے تجویز کردہ قوانین کی منظوری دے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ملک میں آتشیں اسلحے پر کنٹرول کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے تاکہ امریکی اسکولوں اور عوامی مقامات پر فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہلاکتوں پر قابو پایا جاسکے۔

بدھ کو 'وہائٹ ہائوس' میں نائب صدر جو بائیڈن کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکی بچوں کو ان ہتھیاروں کا نشانہ بننے سے بچانا امریکی معاشرے کی اولین ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔

صدر نے اپنے خطاب میں کانگریس پر زور دیا کہ وہ امریکہ میں 'گن کنٹرول' کے لیے ان کے تجویز کردہ قوانین کی منظوری دے۔

صدر نے اعلان کیا کہ وہ 'گن کنٹرول' سے متعلق قانون سازی آئندہ ہفتے تک متعارف کرادیں گے جس میں جدید ہتھیاروں پر پابندی، ہتھیاروں کی فروخت سے قبل خریدار کے ماضی کی تفصیلی جانچ پڑتال اور ہتھیاروں کی منتقلی سے متعلق قوانین کو مزید سخت کرنے کی سفارشات شامل ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ کانگریس کے عدم تعاون کی صورت میں وہ ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق موجودہ قوانین کے سختی سے نفاذ کے لیے اپنے صدارتی اختیارات کا استعمال کریں گے۔

صدر نے کہا کہ اگر ان اقدامات کے ذریعے کسی ایک شخص کی زندگی بھی بچائی جاسکتی ہے تو "ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے بچانے کی کوشش کریں"۔

مذکورہ سفارشات امریکی نائب صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی نے مختلف اداروں، تنظیموں اور شخصیات کے ساتھ مشاورت کے بعد ترتیب دی ہیں۔

یہ کمیٹی صدر براک اوباما نے گزشتہ ماہ امریکی ریاست کنیٹی کٹ کے شہر نیو ٹائون کے ایک اسکول میں فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعے کے بعد تشکیل دی تھی جس میں 20 طلبہ اور چھ اساتذہ ہلاک ہوگئے تھے۔

سانحے کے بعد امریکہ بھر میں اسلحے پر کنٹرول کی بحث میں شدت آگئی تھی اور مختلف حلقے صدر اوباما سے اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

نیو ٹائون سانحے کے بعد امریکی اسکولوں کے کئی طلبہ و طالبات نے بھی صدر اوباما کو اپنے تحفظات پر مبنی خطوط ارسال کیے تھے۔ ان میں سے کئی بچے بدھ کو صدر کی پریس کانفرنس میں بھی موجود تھے۔

تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ 'گن کنٹرول' سے متعلق قوانین پر صدر کو ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حق میں مہم چلانے والی سب سے بڑی اور موثر تنظیم 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' پہلے ہی خبردار کرچکی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی قانون سازی کو منظور نہیں ہونے دے گی جس سے امریکی شہریوں کی ہتھیاروں تک رسائی محدود ہوتی ہو۔
XS
SM
MD
LG