رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما کی پھوپھی کی امریکہ میں پناہ کی درخواست


امریکی ریاست میسا چوسٹس میں امیگریشن کی ایک عدالت نے جمعرات کو صدر باراک اوباما کی کینیا سے تعلق رکھنے والی عزیزہ کی امریکہ میں پناہ کی درخواست کی سماعت کی۔

بوسٹن کی عدالت میں تقریباً اڑھائی گھنٹے جاری رہنے والی سماعت میں زیتونی اونیانگو نے کہا کہ انھیں ملک میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ ڈاکٹروں نے بھی ان کی اپیل کے حق میں بیان دیا ہے کہ انھیں طبی مسائل کے باعث امریکہ میں رہنے دیا جائے۔

درخواست کی سماعت پر فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا اور وکلاء کا کہنا ہے کہ آئندہ سماعت 25مئی کو ہوگی تاہم ان کے مطابق شاید اس سے قبل ہی کوئی فیصلہ سنا دیا جائے۔

زیتونی رشتے میں صدر اوباما کی پھوپھی لگتی ہیں اور وہ 2000ء میں امریکہ آئی تھیں۔ 2004ء میں ایک جج نے ان کی طرف سے امریکہ میں سیاسی پناہ کی اپیل کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انھیں واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا جس پر انھوں نے عمل نہیں کیا۔

2008ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے چند روز قبل زیتونی کا یہ مسئلہ بڑے پیمانے پر عوامی توجہ کا مرکز بنا۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کی کوئی پھوپھی امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ان کے مطابق اس حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG