رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما، کیمرون کا ’سائبر سکیورٹی تعاون‘ وسیع کرنے کا اعلان


صدر اوباما نے کہا کہ ’باہمی تعاون کو فروغ دینے کا مقصد ہمارے زیریں ڈھانچے کو محفوظ بنانا، ہمارے کاروباری اداروں کو تحفظ فراہم کرنا اور ہمارے لوگوں کی ’پرائیویسی‘ برقرار رکھنا ہے‘

امریکہ اور برطانیہ کو درپیش کئی ایک خطرات کے پیش نظر، امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے باہمی تعاون کو تقویت دینے کا عہد کیا ہے، جس میں سائبر سکیورٹی شامل ہے۔

دونوں سربراہان نے جمعے کو وائٹ ہاؤس میں مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ فوری نوعیت کے اور بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’باہمی تعاون کو فروغ دینے کا مقصد ہمارے زیریں ڈھانچے کو محفوظ بنانا، ہمارے کاروباری اداروں کو تحفظ فراہم کرنا اور ہمارے لوگوں کی ’پرائیویسی‘ کو برقرار رکھنا ہے‘۔

یہ اقدام 24 نومبر کو ’سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ‘ پر تباہ کُن حملوں اور اس ہفتے ’امریکی سنٹرل کمانڈ‘ کے سماجی میڈیا اکاؤنٹس کی ہیکنگ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ سنٹرل کمانڈ کے سماجی میڈیا اکاؤنٹس امریکی قیادت میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف جاری فضائی حملوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

صدر اوباما اور وزیر اعظم کیمرون نے یوکرین میں ملوث ہونے کی پاداش میں، روس کے خلاف سخت تعزیرات جاری رکھنے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔ دونوں راہنماؤں نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا بھی عہد کیا، ایسے میں جب وہ ان پابندیوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں، جنھیں مسٹر اوباما نے ’اہم جمہوری اصلاحات‘ قرار دیا۔

بات چیت میں ایران کے موضوع کو خاصی اہمیت حاصل رہی۔ مسٹر کیمرون نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ دونوں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’یقینی طور پر پُر عزم‘ تھے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں سمجھوتے تک پہنچنے کی غرض سے درکار وقت دیا جائے۔

دونوں سربراہان نے ایبولا، موسمیاتی تبدیلی اور معیشت کے بارے میں مشترکہ کوششوں پر بھی بات کی۔

اُنھوں نے یورپی یونین، امریکہ تجارتی سمجھوتے کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے، 2015ء کو ایک فیصلہ کُن سال قرار دیا۔

اس سے قبل، امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون جمعے کے دِن واشنگٹن میں دوسرے روز بھی مذاکرات جاری رکھے۔

وائٹ ہاؤس اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اوباما اور کیمرون وسیع تر امور پر بات چیت کی، جِن میں دہشت گردی، ایبولا، یوکرین کے خلاف روس کی تعزیرات اور سائبر سکیورٹی شامل ہیں۔

اہل کاروں کے مطابق، توقع ہے کہ دونوں عالمی سربراہان مشترکہ ’سائبر وار گیمز‘ کے بارے میں اپنے پروگرام کا اعلان کریں گے، جن کا آغاز رواں سال کے آخر میں بینکوں پر علامتی حملے کے مظاہرے سے ہوگا۔

برطانوی راہنما نے کہا ہے کہ وہ صدر اوباما سے کہیں گے کہ وہ گوگل اور فیس بُک جیسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے کہیں کہ وہ حکومتوں کو یہ اجازت دیں کہ وہ ’انکرپٹڈ‘ مواصلات میں تاک جھانک کرسکیں۔

امریکی قومی سلامتی کے ادارے (این ایس اے) سے متعلق انکشافات پر سامنے آنے والے وسیع تر عوامی احتجاج کے تناظر میں یہ حساس نوعیت کا معاملہ ہے، جس ادارے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اُس نے لاکھوں امریکیوں کے ٹیلی فون ریکارڈ پر نگاہ رکھی ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG