رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سپریم کورٹ میں صحتِ عامہ کے قانون پر سماعت جاری


امریکہ کی سپریم کورٹ منگل کو اوباما انتظامیہ کی جانب سے متعارف کرائے جانےو الے صحتِ عامہ کے قانون کی آئینی حیثیت سے متعلق مقدمے کی سماعت جاری رکھے گی۔

'افورڈیبل کیئر ایکٹ' نامی اس قانون کی سماعت کا آغاز پیر کو ہوا تھا اور امریکی سپریم کورٹ تین دن تک وکلا کے دلائل سنے گی۔ سنہ 1960 کے بعد سے آج تک کسی ایک کیس کو اتنا زیادہ وقت نہیں دیا گیا ہے۔

قانون کے تحت ہر امریکی شہری کو جنوری 2014ء تک 'ہیلتھ انشورنش' کرانے کا پابند کیا گیا ہے ورنہ انہیں جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

قانون کے حامی کہتے ہیں کہ صحتِ عامہ کی سہولیات پر اٹھنے والے اخراجات تمام امریکیوں خصوصاً صحت مند لوگوں پر تقسیم کیا جانا ضروری ہیں جو عام حالات میں انشورنش نہیں کراتے۔

قانون کے تحت اپنے ملازمین کو 'ہیلتھ انشورنس' نہ دینے والے کاروباری اداروں پر بھی جرمانہ کیا جاسکے گا۔

حامیوں کے بقول اس طرح علاج معالجے کی سہولتیں تین کروڑ ایسے امریکیوں کو بھی مل جائیں گی جن کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں ہے اور ان کے علاج پہ اٹھنے والے اخراجا ت کم کیے جاسکیں گے۔

لیکن امریکہ کی 26 ریاستوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کے نمائندہ اتحاد کا موقف ہے کہ کانگریس کو امریکیوں کو 'ہیلتھ انشورنس' خریدنے کا پابند بنانے کا اختیار نہیں ہے۔

لیکن اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئین میں دیے گئے اختیارات کے تحت کانگریس کو بین الریاستی محصولات سے متعلق قانون سازی کا حق حاصل ہے۔

قانون کے مخالفین کا اصرار ہے کہ اس قانون سے علاج معالجے کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا اور طبی سہولیات کا معیار گرے گا۔

پیر کو سماعت کے پہلے روز نو رکنی عدالت نے قانون کی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر فریقین کے دلائل سنے تھے۔

قانون کے قابلِ سماعت ہونے کا سوال اس لیے پیدا ہوا ہے کیوں کہ ابھی یہ مکمل طور پر نافذ العمل نہیں ہے۔ صدر براک اوباما نے 2010ء میں قانون پر دستخط کیے تھے لیکن اس کی اہم شقیں 2014ء میں موثر ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG