رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ کے نئے جج سے متعلق سینیٹ قانون کے مطابق سماعت کرے: اوباما


صدر اوباما نے کہا کہ انہیں اس کی معقول وجہ بتائی جائے کہ سینیٹ جسٹس انٹونن اسکالیا کی جگہ ان کی طرف سے نامزد کیے گئے نئے جج کی تقرری پر سماعت کرنے سے کیوں انکار کرے گی۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ امریکی آئین اس بات پر بہت واضح ہے کہ سپریم کورٹ میں جب کوئی آسامی خالی ہو تو اس کو پر کرنے کے لیے جسے بھی صدر نامزد کرے سینیٹ کو اس پر غور کرنا چاہیئے۔

صدر اوباما نے منگل کو کیلیفورنیا کے شہر رینچو میراج میں نامہ نگاروں سے کہا کہ انہیں اس کی معقول وجہ بتائی جائے کہ سینیٹ جسٹس انٹونن اسکالیا کی جگہ ان کی طرف سے نامزد کیے گئے نئے جج کی تقرری پر سماعت کرنے سے کیوں انکار کرے گی۔

سینیٹ کے ایجنڈے کا فیصلہ کرنے والے رپبلیکن قائد اکثریت مِچ مکونل نے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے لیے نئی نامزدگی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا صدر جو جنوری 2017 میں عہدہ سنبھالے گا اسے یہ تقرری کرنی چاہیئے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی غیر تحریر شدہ قانون نہیں جو یہ کہتا ہے کہ اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے قریب کوئی صدر کسی جج کو نامزد نہیں کر سکتا۔

اوباما نے کہا کہ عوام چاہیں گے کہ منتخب حکام سیاست سے بالاتر ہو کر سپریم کورٹ کے متعلق فیصلے کریں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کسی اعتدال پسند شخص کو نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو رپبلیکن پارٹی کے ارکان کے لیے قابل قبول ہو تو اوباما نے کہا کہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جسے بھی وہ نامزد کریں گے وہ غیر معمولی قانونی دماغ کا حامل ہو گا اور غیر متنازع طور پر ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بیٹھنے کا اہل ہو گا۔

اوباما نے ایک مرتبہ پھر جسٹس اسکالیا کی وفات پر ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ جسٹس اسکالیا 79 سال کی عمر میں ہفتے کو انتقال کر گئے تھے۔

ان کی وفات سے نو رکنی عدالت عظمیٰ میں ایک ایسے وقت آسامی خالی ہوئی ہے جب عدالت کئی اہم مقدمات کی سماعت کر رہی ہے۔

ان مقدمات میں اسقاط حمل کے حقوق، حق رائے رہی، امیگریشن اور صدر اوباما کے صحت کے قانون سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG