رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما کا دنیا بھر کے مسیحیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی


دنیا میں دو اقوام ایسی ہیں جہاں مسیحیوں کو ان کے مقدس تہوار  کرسمس منانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جن میں صومالیہ اور برونائی شامل ہے، جہاں باضابطہ کرسمس کی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کرسمس کے مقدس تہوار کے موقع پر دنیا بھر کے مسیحیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی طور پر ان مسیحوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے، جنھیں یہ مقدس تہوار منانے سے روکا گیا ہے۔

صدر اوباما نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اور خاتونِ اول مشیل اوباما دونوں ان لوگوں کو نہیں بھولے جنھیں ناقابلِ بیان تشدد اور پریشانیوں کے باعث اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا، جیسا کہ مشرق وسطیٰ جہاں داعش کے جنگجوؤں نے گرجا گھر کی روائتی گھنٹیوں کو خاموش کرکے رکھ دیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ وہ پریشان حال مسیحیوں اور دیگر عقائد کے لوگوں کے علاوہ انسانی، سفارتی اور فوجی خدمات انجام دینے والی ان خواتین اور مردوں کی سلامتی کے لئے دعاگو ہیں، جو دنیا بھر کے لوگوں کی طرح، دعاؤں میں شریک ہیں جو متاثرہ قوموں میں امید کی کرن پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔

دنیا میں دو اقوام ایسی ہیں جہاں مسیحیوں کو ان کے مقدس تہوار، کرسمس منانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جن میں صومالیہ اور برونائی شامل ہے جہاں باضابطہ کرسمس کی تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

صومالیہ میں حکام کا کہنا ہے کہ کرسمس اور سال نو کی تقریبات اسلامی ثقافت کے منافی ہیں، اس لئے، یہ تقریبات داعش کے مسلح جنگجوؤں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

گزشتہ برس موغادیشو ایئرپورٹ پر الشباب نے کرسمس کی ایک ایسی ہی تقریب پر حملہ کرکے کم ازکم 12 افراد کو ہلاک کردیا تھا، جبکہ برونائی میں سلطان حسن البخی ملک میں شرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک میں مذہبی رہنماؤں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ کرسمس کی کوئی ایسی تقریب منعقد نہ کریں جو لوگوں کو نظر آئے اور مسلمانوں کو ایسی تمام تقریبات جس میں کرسمس سے مشابہت پائی جاتی ہو، میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG