رسائی کے لنکس

logo-print

بماکو حملے میں ملوث عناصر کا 'مسلسل' پیچھا کریں گے: صدر اوباما


ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، اس کے اتحادی اور شراکت دار اپنے شہریوں کے تحفظ، "دہشت گردی کو ہوا دینے والے نفرت انگیز نظریے" کو شکست دینے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے مالی میں ایک ہوٹل پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو "گھناؤنا" قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ قاتلوں کا "مسلسل" پیچھا کیا جائے گا۔

جمعہ کو مالی کے دارالحکومت بماکو کو شدت پسندوں نے ایک پرتعیش ہوٹل پر حملہ کر کے وہاں 170 لوگوں کو یرغمال بنایا۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کر کے یرغمالیوں کو بازیاب تو کروا لیا لیکن اس دوران دو حملہ آوروں سمیت 27 افراد ہلاک ہوگئے۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں خطے کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ بماکو میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا عزم مزید پختہ کر دیا ہے۔

"جیسا کہ ہم نے پیرس میں وحشیانہ حملہ دیکھا اور دیگر جگہوں پر بھی ایسے ہی حملے دیکھتے ہیں۔ یہ ہماری بہت سے اقوام کو درپیش دہشت گردی کے خطرے کی ایک اور یقین دہانی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، اس کے اتحادی اور شراکت دار اپنے شہریوں کے تحفظ، "دہشت گردی کو ہوا دینے والے نفرت انگیز نظریے" کو شکست دینے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مغربی افریقہ کے دو دہشت گرد گروپوں القاعدہ فی بلاد المغرب اور اس سے وابستہ المرابطون نے بماکو حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مالی کے صدر ابراہیم ابوبکر کیتا اپنا چاڈ کا دورہ مختصر کر کے جمعہ کو ہی وطن واپس پہنچ گئے تھے اور انھوں نے ملک میں اس واقعے پر تین روزہ سوگ اور ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ حکومت مالی سے سے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدم کرے گی۔

اس ہوٹل سے بازیاب کروائے گئے لوگوں میں چھ امریکی شہری بھی شامل تھے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے مالی کو درکار تعاون فراہم کرنے کا کہا تھا۔

ان کے بقول مالی خطے میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے اور "ہم مالی کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔"

مالی کے شمالی علاقے 2012ء کے دوران شدت پسند تنظیم القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ رہے، لیکن بعد میں فرانس کی زیر قیادت کیے گئے ایک فوجی آپریشن کے نتیجے میں شدت پسندوں کو اس علاقے سے باہر دھکیل دیا گیا۔

تاہم اب بھی ملک کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے عسکریت پسند حملے کرتے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG