رسائی کے لنکس

logo-print

ایشیائی ممالک کے دورے کے بعد اوباما کی وطن واپسی


صدر اوباما اور چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ کی ملاقات

ایشیائی ممالک کا نو روزہ دورہ کرنے کےبعد امریکی صدر براک اوباما اتوار کے دِن وطن واپس پہنچ گئے، جِس کے دوران اُنھوں نے چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ کے ساتھ علیحدہ سے ملاقات کی۔

وائٹ ہاؤس کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ہفتے کے روزانڈونیشیا کےصحت افزا مقام بالی میں ہوئی جو معاشی معاملات پر مرتکز رہی، جس میں بحیرہٴ جنوبی چین میں آزادانہ تجارت کا معاملہ بھی شامل تھا۔ مسٹر وین نے طویل عرصےسے جاری

بحیرہ ٴچین کے تنازعے پر، جس کے ایک سے زائد علاقائی دعویدار ہیں، حل کے لیے کسی بیرونی مداخلت کے بارے میں خبردار کیا۔

متعدد ایشیائی ممالک، جِن میں ویتنام اور فلپین کے ساتھ ساتھ چین بھی شامل ہے،بحیرہٴ جنوبی چین میں جہازرانی کےکچھ راستوں پر ملکیت کے دعویدار ہیں۔

چینی راہنما کے بیان سے یہ مراد لی جارہی ہے کہ امریکہ اس تنازع سے دور رہے۔

داخلی طور پر مسٹر اوباما کو معاشی معاملات درپیش ہیں، ایسے میں جب کانگریس میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس کی طرف سے 1.2ٹرلین ڈالر کے وفاقی خسارے میں کٹوتی لانے کے لیے درکار سمجھوتے کے لیے وقت تنگ ہوتا جارہا ہے۔

معاہدے تک پہنچنے کی غرض سےایوان کی دو طرفہ خصوصی قائمہ کمیٹی کے ارکان نے اتوار کے روز درپیش تعطل پر بات چیت کی

جس میں سماجی منصوبوٕ ں میں کٹوتی لانے اور ٹیکس کو بڑھانے کا معاملہ زیر غور رہا۔ ’سپر کمیٹی‘ نامی یہ کمیٹی اگست میں اُس وقت

قائم کی گئی تھی جب سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان اس تنازعے کو حل کرنے میں ناکام رہے تھے، جس کےباعث امریکی معیشت

نادہندگی کی حد کے قریب پہنچ گئی تھی اور تاریخ میں پہلی بار ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی واقع ہوئی ۔

حالانکہ مسٹر اوباما اِس کمیٹی کی کاوشوں میں براہ راست ملوث نہیں ہیں، اُنھوں نے کمیٹی پر زور دیا ہے کہ’ کام کومکمل کیا جائے‘۔

کسی منصوبے تک پہنچنے کے لیے کمیٹی کے پاس بدھ تک کا وقت باقی ہے۔

XS
SM
MD
LG