رسائی کے لنکس

logo-print

دو اہم ریاستوں میں صدر اوباما کی مقبولیت میں اضافہ


دونوں ریاستوں کا شمار ان 'سوئنگ اسٹیٹس' میں ہوتا ہے جن کے بارے میں باور کیا جارہا ہے کہ وہ 6 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے رواں برس ہونے والی صدارتی انتخاب میں انتہائی اہم سمجھی جانے والی دو ریاستوں میں اپنے ری پبلکن حریف مٹ رومنی پر واضح برتری حاصل کرلی ہے۔

بدھ کو جاری کیے جانے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق صدر اوباما کو جنوبی ریاست فلوریڈا اور وسط مغربی ریاست اوہایو میں 50 فی صد سے زائد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

ان دونوں ریاستوں کا شمار ان 'سوئنگ اسٹیٹس' میں ہوتا ہے جن کے بارے میں باور کیا جارہا ہے کہ وہ 6 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

'کوئینی پیک یونی ورسٹی'، 'سی بی ایس نیوز' اور 'نیو یارک ٹائمز' کے اشتراک سے کیے جانے والے اس جائزے کےمطابق صدر اوباما کو فلوریڈا میں رومنی کے 44 فی صد کے مقابلے میں 53 فی صد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ جب کہ اوہایو میں صدر اوباما کے 53 فی صد حامیوں کے مقابلے میں رومنی کی حمایت 43 فی صد ہے۔

جائزے کے مطابق ایک اور 'سوئنگ اسٹیٹ' پنسلوانیا میں بھی صدر اوباما نے اپنی برتری برقرار رکھی ہوئی ہے جہاں انہیں 54 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔ پنسلوانیا کے 42 فی صد ووٹرز رومنی کی حمایت کر رہے ہیں۔

'کوئینی پیک یونی ورسٹی' کے 'پولنگ انسٹی ٹیوٹ' کے سربراہ پیٹر برائون کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی اس برتری میں اس برے وقت کا خاصا اہم کردار ہے جو اس وقت رومنی پر آیا ہوا ہے۔

ان کے بقول 47 فی صد ووٹروں کو مفت خورا قرار دینے کے رومنی کے بیان پر انہیں ذرائع ابلاغ میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کا یہ بیان ان تینوں اہم ریاستوں میں صدر اوباما کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بنا ہے۔
XS
SM
MD
LG