رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان چاہتا ہےکہ اُسےباقاعدہ نیوکلیئر کلب کا میمبر تسلیم کیا جائے: وزیراعظم گیلانی


باقی امور کے علاوہ سول نیوکلیئر تعاون کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، 'اور، ہمیں امید ہے کہ بہت جلد قوم کو اس ضمن میں اچھی خبر ملے گی'

پیر کو شروع ہونے والےعالمی جوہری سربراہی اجلاس سےایک روز قبل بلیئرہاؤس میں امریکی صدر براک اوباما اور پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی ملاقات ہوئی۔ بعد میں اخباری نامہ نگاروں سے بات چیت میں وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ باقی امور کے علاوہ سول نیوکلیئر تعاون کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، 'اور، ہمیں امید ہے کہ بہت جلد قوم کو اس ضمن میں اچھی خبر ملے گی۔'

'ریڈیوآپ کی دنیا' کو دی گئی اپنی خصوصی رپورٹ میں ہمارے نمائندے، فیض رحمٰن نے بتایا کہ، وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اُسے باقاعدہ عالمی نیوکلیئر کلب کا رُکن تسلیم کیا جائے۔

پاکستان بھارت تعلقات پر پوچھے گئے ایک سوال پر، اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان باہمی مذاکرات کا کھلے دل سےحامی ہے۔ اُن کے بقول، سیاستداں امن، نہ کہ جنگ کے حق میں ہوا کرتے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ ملاقات میں اُنھوں نے صدر اوباما کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو اُنھوں نے بخوشی قبول کر لی ہے۔

اِس سے پیشتر ہونے والی ایک اخباری بریفنگ میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ملاقات میں سکیورٹی، توانائی اوراقتصادی تعاون پر بات چیت ہوئی۔

قریشی نے کہا کہ بات چیت میں پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کا ذکر آیا، اور وزیر اعظم گیلانی نے بتایا کہ پاکستان کے پاس عالمی سطح کا حفاظتی معیار اور مکینزم موجود ہے، اور یہ کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہیں جاسکتے۔ یاد رہے کہ اِس ضمن میں ایک عرصے سےامریکی اخبارات میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میںچلے جانے کے بارے میں پائے جانے والےسکیورٹی خدشات کی خبرین شائع ہوتی رہی ہیں۔

بعد میں سوالات کے جوابات کے دوران شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ دو روزہ اجلاس صرف پاکستان کے لیے نہیں بلایا گیا، بلکہ اِس میں46سے زائد ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ اُن کے بقول، 'کانفرنس سے پاکستان پر کوئی قدغن نہیں آئے گی۔'

اُنھوں نے بتایا کہ ملاقات میں حال ہی میں واشنگٹن میں ہونے والی پاک امریکہ اسٹریٹجک کانفرنس کا ذکر آ یا، اور دونوں ملکوں نے حاصل ہونے والی مثبت پیش رفت کو جاری رکھتے کےعزم کا اظہار کیا۔ 'صدر اوباما نے کہا کہ سکیورٹی ہماری ترجیحات میں اولیت رکھتی ہے، لیکن پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات سکیورٹی تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔'

قریشی نے بتایا کہ صدر اوباما نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، خوشحالی اورسیاسی استحکام میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

ملاقات میں امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور اُن کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے علاوہ دونوں ملکوں کے دیگر اعلیٰ افسر اور سفارت کار شریک ہوئے۔

قریشی نے کہا کہ، 'ملاقات میں وزیر اعظم گیلانی نے صدر اوباما کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جو اُنھوں نے خوشی سے قبول کرلی۔'

اِس ضمن میں، صحافیوں کے سوالات کے دوران، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر اوباما نے اپنی تعلیم کے دوران پاکستان کے دورےکا ذکر کیا، اور کہا کہ 'پاکستان کے ساتھ میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔'

اِس سے پیشتر اتوار کے ہی دِن صدر اوباما اوربھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیر اعظم گیلانی سے ملاقات میں امریکی صدر نے اِس ملاقات کا ذکر کیا، اورکہا کہ پاکستان بھارت تعلقات خطے کے بہتر مفاد میں ہیں۔ شاہ محمود کے مطابق صدر اوباما کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ بھارت پاکستان تعلقات کو فروغ دینےکے معاملے پر'مخلص ہیں۔'

'امریکی صدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام اوردو آزاد مملکتوں پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ کم ہونے سے دونوں ممالک مستفید ہوں گے۔ '

'صدر اوباما نے پاکستانی مصنوعات کو یورپی اور امریکہ کی منڈیوں تک رسائی کی اہمیت کو تسلیم کیا اور مدد کا یقین دلایا۔'

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بات چیت میں پاکستان کے قبائلی اورپاک افغان سرحدی علاقے میں ترقیاتی منصوبے جاری کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا، اور امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اُنھیں اِس بات کا بخوبی علم ہے کہ شدت اور انتہا پسندی کے خلاف جاری جنگ کے باعث پاکستان نے اقتصادی طور پر کتنا نقصان اٹھایا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے استحکام اور ترقی کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ 'صدر اوباما نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ پاکستان نے مشکل معاشی فیصلے کیے ہیں جس کے باعث اُس کی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ '

'امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان امریکہ تعلقات کو ایسی سطح پر لے جایا جائے گا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔'

ملاقات میں، پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم گیلانی نے توانائی کے بحران کا معاملہ اُٹھایا، اور طویل لوڈشیڈنگ سےہونےوالی تکالیف کا حوالہ دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ا،س موقعے پر سوات، ملاکنڈ اور قبائلی علاقے میں فوجی کارروائیوں کا ذکر ہوا 'اور، امریکی صدر نے پاکستانی عوام اور فوج کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کامیابی پر شکریے کے کلمات ادا کیے، اور بتایا کہ اُنھیں معلوم ہے کہ اِس معاملے میں انسانی اور معاشی لحاظ سے کتنی قیمت ادا کی گئی ہے۔'

ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کے بارے میں اِس دورے کے دوران، امریکہ کے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی، اور اِس توقع کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کوانصاف ملے گا۔

XS
SM
MD
LG