رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما کی طرف سےحفظانِ صحت کےنئےقانون کی توصیف


امریکی صدر براک اوباما حفظانِ صحت کےنظام میں تاریخی اصلاحات کی تشہیر کر رہے ہیں، جب کہ ایک نئے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ امریکی لوگ وسیع تبدیلیاں لانے والے اِس بِل پر بٹے ہوئے ہیں، جِس پر صدر نے منگل کو دستخط کرکے اُسےقانون کا درجہ دے دیاتھا۔

مسٹر اوباما نے جمعرات کو آؤیوا سٹی میں خطاب کے دوران اِن اصلاحات کو سراہا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورینس میں اصلاحات اب ملک کا قانون بن چکا ہے۔

جمعرات کے روز ہی امریکی سینیٹ نے نئے قانون میں تبدیلیوں کے ایک پیکیج کو منظور کیا، اور اِسے ایوانِ نمائندگان کو بھیج دیا ۔ ری پبلیکن پارٹی کے اقلیتی اراکین نے ترامیم کا ایک سلسلہ پیش کرکے پیکیج کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کو کوشش کی، لیکن سب مسترد ہوگئیں۔

ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ ارکان نے اِن ترامیم کے مطالبے کے بدلے حفظانِ صحت میں اصلاحات کے اصل بِل کی منظوری کا مطالبہ کیا تھا۔

ری پبلیکن ارکان نئے قانون کی سختی سے مخالفت کر رہے ہیں۔ کیونی پیک یونیورسٹی کے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر امریکی اِس معاملے پر بٹے ہوئے ہیں۔جائزے میں شریک تقریباً آدھے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ نئے قانون کو نامنظور کرتے ہیں، جب کہ 40فی صد کا کہنا ہے کہ وہ اِس کی موافقت میں ہیں۔

حفظانِ صحت میں اصلاحات کے بِل پر ووٹنگ کے بعد، کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کو دھمکیاں مل چکی ہیں اور اُن کے دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوانِ نمائندگان کی سپکیر، نینسی پلوسی ، اور ری پبلیکن پارٹی کے اقلیتی لیڈر جان بوہنر نے کہا کہ ایسے طرزِ عمل کی امریکی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔

ایوان میں اکثریتی پارٹی کے قائد، سٹینی ہائر نے بتایا کہ گذشتہ چند روز کے دوران کانگریس کے کم از کم 10ارکان کو ذاتی طور پر یا اُن کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں مل چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG