رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کو اپنی فضائی حدود کے دفاع کا حق حاصل ہے: اوباما


صدر اوباما اور صدر اولاں نے کہا ہے کہ ترکی کو اپنی فضائی حدود کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ دونوں سربراہانِ مملکت نے شام و عراق میں دہشت گردوں سے نبردآزما ملکوں کے درمیان ’آپسی رابطے‘ اور قابل عمل ’لائحہ عمل طے کرنے‘ پر زور دیا

ترکی کی جانب سے روس کے لڑاکا جہاز کو گرائے جانے کے معاملے پر، امریکہ اور فرانس کے صدور نے کہا ہے کہ ’یہ وقت کشیدگی میں اضافے کا نہیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ داعش کے شدت پسند گروہ کے خلاف جاری لڑائی پر دھیان مرکوز رکھا جائے‘۔

ساتھ ہی، دونوں سربراہانِ مملکت نے شام و عراق میں دہشت گردوں سے نبردآزما ملکوں کے درمیان ’آپسی رابطے‘ اور قابل عمل ’لائحہ عمل طے کرنے‘ پر زور دیا۔

اُنھوں نے یہ بات منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں تفصیلی ملاقات کے بعد مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔

صدر اوباما نے واضح کیا کہ ترکی کو اپنی فضائی حدود کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے؛ اور صدر اولاں نے بھی اِنہی جذبات کا اظہار کیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ جب سے روس شام کے خطے میں جاری لڑائی میں شامل ہوا ہے، ’شروع دِن سے یہی خطرہ لاحق تھا کہ رابطے کی عدم موجودگی میں کوئی بھی واقعہ ہو سکتا ہے، جس کے لیے تمام فریق کی جانب سے احتیاط برتنا لازم ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ ترک صدر رجب طیب اردگان سے رابطے میں ہیں، اور مختلف ذرائع سے روسی جہاز کے گرائے جانے سے متعلق معلومات حاصل کر رہے ہیں، جس میں امریکہ کے اپنے انٹیلی جنس کے ذرائع شامل ہیں۔

اس ضمن میں، صدر فرانسوان اولاں نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ضرورت اس بات کی ہے ’تحمل سے کام لیا جائے‘ اور صورت حال کو مزید ’کشیدہ کرنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے‘۔

اس سے قبل، وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران، دونوں سربراہانِ مملکت نے داعش کے شدت پسند گروہ کے خلاف لڑائی میں بہتر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ یہ ملاقات پیرس کے مہلک جہادی حملوں کے تناظر میں ہوئی۔

فرانسیسی صدر بدھ کو جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل سے ملاقات کریں گے، جب کہ جمعرات کو وہ ماسکو جائیں گے، جہاں اُن کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات ہوگی۔

صدر اوباما نے اعلان کیا کہ اگلے پیر کو پیرس میں موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والے اہم عالمی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں ماہرین کے علاوہ 100 سے زائد سربراہان مملکت اور حکومت شریک ہوں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عراق و شام میں داعش کے شدت پسند گروہ کے خلاف جاری کارروائی کے سلسلے میں ایک مؤثر اتحاد پہلے ہی کام کر رہا ہے، جس میں 65 ملک شریک ہیں، جن میں فرانس بھی شامل ہے، جسے اُنھوں نے ’بلند ہمت، اعلیٰ حوصلہ، اور ایک چاق و چوبند اتحادی‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ روس کے اتحاد میں صرف ایران شامل ہے۔

صدر اولاں نے کہا کہ فرانس نے شام میں داعش کے دہشت گردوں اور اس سے منسلک تمام ٹولوں کے خلاف فضائی کارروائی تیز کردی ہے، جس میں انتہا پسندوں کے نیٹ ورک پر حملے کیے جا رہے ہیں، جب کہ اُن کے مالی وسائل کے خاتمے کے لیے اُن کے تیل کے ٹینکروں، تربیت گاہوں اور محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بقول اُن کے، ’یہ مؤثر فضائی کارروائیاں بے نتیجہ ثابت نہیں ہوں گی‘۔

فرانس کے صدر نے کہا کہ انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کا قلع قمع کیا جائے گا۔

اس موقع پر اُنھوں نے پیرس حملوں کا ذکر کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کے حربے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، جس میں 129 بے گناہ ہلاک، جب کہ 400 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ صدر اوباما پہلے سربراہ تھے جنھوں نے فوری رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، فرانس کو مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

صدر اولاں نے وضاحت کی کہ شام کی دگرگوں صورت حال کے نتیجے میں پناہ گزیں بننے والے مہاجرین، جن میں سے کافی تعداد نے یورپی ممکوں کا رُخ کیا، اُن کا موازنہ کسی طور پر داعش کے شدت پسندوں سے کرنا مناسب نہ ہوگا۔

اِس ضمن میں، اپنے بیان میں، صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ 30000 شامی مہاجرین کو آئندہ دو برسوں کے دوران اپنے ملک میں بسائے گا، جس ضمن میں اسکریننگ کے مروجہ سخت اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے گا، جو ایک رواجی اقدام ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ طیارے نے ترک فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی کی تھی، جسے 10 بار متنبہ کیا گیا اور واپس جانے کے لیے پانچ منٹ دیے گئے, جسے نظرانداز کیا گیا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے بتایا ہے کہ اُن کے ملک نے تمام تر کوشش کی کہ واقع نہ ہو۔ لیکن، بقول اُن کے، ’ہر ایک کو سرحدوں کے دفاع کے ترکی کے حق کا خیال کرنا ہوگا‘۔

امریکی فوجی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترک پائلٹوں نے روسی طیارے کو بار بار انتباہ جاری کیا، جس پر دھیان نہیں دیا گیا۔ تاہم، ترجمان نے کہا کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ روسی لڑاکا طیارہ سرحد کے کس جانب پرواز کر رہا تھا۔
روس اس بات پر مصر ہے کہ طیارہ شامی علاقے ہی میں تھا۔

XS
SM
MD
LG