رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن میں جوہری سلامتی سے متعلق عالمی کانفرنس


وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی طرف سے جوہری حملے کے امکانات کا اندازہ لگانا ناممکن ہے لیکن دنیا بھر میں فوجی اور سول جوہری پروگراموں سے منسلک تقریباً دو ہزار میٹرک ٹن انتہائی افژودہ یورینیئم اور پلوٹونیئم موجود ہے۔

صدر براک اوباما چوتھی اور آخری مرتبہ جمعرات کو واشنگٹن میں شروع ہونے والی جوہری سلامتی کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں جو کہ ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب ٹنوں کے حساب سے خام جوہری مواد اب بھی اتنا محفوظ نہیں اور ممکنہ طور پر اس کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ موجود ہے۔

وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی طرف سے جوہری حملے کے امکانات کا اندازہ لگانا ناممکن ہے لیکن دنیا بھر میں فوجی اور سول جوہری پروگراموں سے منسلک تقریباً دو ہزار میٹرک ٹن انتہائی افژودہ یورینیئم اور پلوٹونیئم موجود ہے۔

قومی سلامتی کے نائب مشیر بین روہڈز کہتے ہیں کہ "ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی خواہش ہے کہ اس خام مواد تک رسائی ہو اور وہ ایک جوہری ہتھیار کی خواہش رکھتی ہیں۔" ان کے بقول بین الاقوامی جوہری سلامتی میں تعاون کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کانفرنس میں پہلی بار ایک خاص سیشن شامل کیا گیا ہے جس میں اس بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ کس طرح اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ داعش جیسے گروپوں کے ہاتھ جوہری مواد نہ لگے۔

دو روزہ اس کانفرنس میں پچاس سے زائد ممالک کے وفود شریک ہو رہے ہیں جو جوہری خطرات اور ان سے بچنے کے طریقوں پر بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کرنا تھی مگر اتوار کو لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے باعث انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ ان کی جگہ اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اس کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

ادھر روس نے بھی اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اجلاسوں کا کردار ختم ہو چکا ہے۔

اس کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے بدھ کو کہا تھا کہ ’’ہماری ترجیح ہے کہ وہ مثبت کردار ادا کریں۔‘‘

دیگر حکام نے بھی اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رواں ماہ برسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے داعش جیسے گروپوں سے لاحق خطرے کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان حملوں کے بعد بیلجیئم نے اپنی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی بڑھائی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری مواد کی نگرانی کے لیے موثر بین الاقوامی حکمت عملی درکار ہے۔

XS
SM
MD
LG