رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما کا مشرقی ایشیا میں بحری سلامتی کے لیے امداد کا اعلان


وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایشیا پیسفک علاقہ گنجان آباد، متنوع اور اقتصادی لحاظ سے مواقع سے بھرپور ہے جہاں امریکہ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی اور معیشت پر مزید تعاون کرنا چاہیئے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما مشرقی ایشیا کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے فلپائن کے دارالحکومت منیلا پہنچ گئے ہیں۔ وہ علاقے میں امریکہ کا اثرورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں مگر پیرس میں مہلک حملے کے بعد سلامتی سے متعلق امور اس دورے کا اہم موضوع ہوں گے۔

صدر براک اوباما نے منگل کو مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کی بحری سلامتی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میرا دورہ اس علاقے کے پانیوں کی سلامتی اور بحری نقل وحمل کی آزادی سے متعلق ہمارے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔‘‘

وائٹ ہاؤس نے اگلے دو سال کے دوران مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے 25کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے نئے امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا جس میں فلپائن کے لیے سات کروڑ 90 لاکھ ڈالر، ویتنام کے لیے چار کروڑ ڈالر، انڈونیشیا کے لیے دو کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور ملائیشیا کے لیے 25 لاکھ ڈالر شامل ہیں۔ ​

ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن (آپیک) کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر منیلا میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں 21 ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ دیگر سربراہان مملکت بھی شریک ہو رہے ہیں۔

کانفرنس میں تجارت اور وسیع البنیاد 'ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ' معاہدے پر بات چیت کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کے لیے اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یہ علاقہ گنجان آباد، متنوع اور اقتصادی لحاظ سے مواقع سے بھرپور ہے جہاں امریکہ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی اور معیشت پر مزید تعاون کرنا چاہیئے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’’اگر ہم اپنے ملک اور اپنے اتحادیوں کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا اور اس صدی اور آنے والی صدیوں کے لیے علاقے میں اقتصادی اور سکیورٹی ڈھانچا تعمیر کرنے میں مدد دینا ہو گی۔‘‘

اوباما نے ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ نامی معاہدے میں شریک 12 ممالک سے کہا کہ وہ اس معاہدے کی توثیق کریں۔

اس معاہدے کی امریکی کانگریس کی طرف سے سخت مخالفت کی جارہی ہے جہاں کچھ قانون سازوں کا خیال ہے کہ اس میں امریکی کارکنوں اور مفادات کے تحفظ کا مناسب خیال نہیں رکھا گیا۔

تاہم اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ امریکی تجارت، کارکنوں اور قومی سلامتی کے لیے اچھا ہے۔

منیلا میں اپنے دورے کے موقع پر اوباما دیگر اتحادیوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جس میں آسٹریلیا، جاپان، فلپائن، سنگاپور اور ملائیشیا شامل ہیں۔

ان ملاقاتوں میں ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ منصوبے، انسداد دہشت گردی، سائبر تحفظ، بحری سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق پر بات چیت ہو گی۔

رواں ہفتے کے اواخر میں صدر اوباما ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور جائیں گے جہاں وہ مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم آسیان کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ لاؤس کے وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے جو 2016 میں آسیان کی صدارت سنبھال رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ آسیان تعاون بڑھانے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG