رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے: اوباما


امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی میں تیزی لانے کے خلاف پابندیاں لگانے کا عمل ’خاصی تیزی سے‘ آگے بڑھ رہا ہے۔

صدر اوباما نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی پیش کش رد کر دی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے واضح طور پر اقوامِ متحدہ کی طرف سے کیے جانے والے اس معاہدے کو قبول نہیں کیا جس کے تحت اسے اپنا یورینیم مزید افزودگی کے لیے باہر بھیجنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران یورینیم کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ اس نے یورینیم کی افزودگی 20 فی صد تک بڑھا دی ہے تاکہ افزودہ یورینیم ایک طبی ایٹمی ریکٹر کو فراہم کیا جا سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جب کہ مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ تیار کر رہا ہے۔

صدر اوباما نے نئی پابندیاں لگانے کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ اب بھی سفارت کاری کے لیے وقت باقی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی ایران پر پابندیوں کے تین مرحلے نافذ کر چکی ہے۔

منگل ہی کے روز روس کے سیکیورٹی چیف نیکولائی پیٹروشیف نے کہا ہے کہ ایران کا افزودگی بڑھانے کا فیصلہ اس کے ایٹمی عزائم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔

ادھر چین نے ایک بار پھر اس تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ چین ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

صدر اوباما نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں روسی بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ امریکہ اس بات کا انتظار کرے گا کہ چین اس بارے میں سلامتی کونسل میں کیا ردِ عمل ظاہر کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG