رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ روس معاہدہ، امریکی قانون ساز برہم، صدر اوباما کا دفاع


اتوار کے روز اے بی سی چینل کے پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے باراک اوباما کا کہنا تھا کہ شام پر دباؤ ڈالنے سے مطلوبہ نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان شام کے معاملے پر طے پائے جانے والے معاہدے سے شام کے معاملے پر امریکی موقف کی تائید ہوئی ہے۔

اتوار کے روز اے بی سی چینل کے پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے باراک اوباما کا کہنا تھا کہ شام پر دباؤ ڈالنے سے مطلوبہ نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

صدر اوباما کے الفاظ، ’شام پر گذشتہ دو ہفتے میں ڈالے جانے والے دباؤ کے نتیجے میں شامی حکومت نے پہلی مرتبہ اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ اس کے پاس کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں۔ شام نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ اس کنونشن میں شمولیت اختیار کرے گا جو کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے۔ دوسری طرف روس کا، جو شام کا بڑا اتحادی ہے، کہنا ہے کہ وہ شام پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ اپنے تمام کیمیاوی ہتھیار تلف کردے۔ اس ضمن میں گذشتہ دو ہفتوں میں جو کامیابی ہمیں ملی ہے وہ غیر معمولی ہے۔‘

امریکی قانون سازوں کی اکثریت امریکہ روس معاہدے پر نالاں دکھائی دیتی ہیں۔

ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز جان میک کین اور لنڈسے گراہم نے امریکہ روس معاہدے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر میک کین این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کر رہے تھے۔

سینیٹر میک کین کے الفاظ، ’اگر شامی صدر بشار الاسد نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ہمارا انحصار رُوسیوں پر ہوگا۔‘

گذشتہ ہفتے امریکی قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد نے واضح کیا تھا کہ وہ شام کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی حمایت میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس میں شام پر امریکہ کے ممکنہ حملے پر کانگریس کے اراکین کی رائے منقسم تھی تو روس کے ساتھ امریکہ کے معاہدے پر بھی بہت سے اراکین ِ کانگریس کی تشویش بجا دکھائی دیتی ہے۔

جب صدر اوباما سے شام کے مسئلے پر روس پر انحصار کی بابت سوال کیا گیا تو صدر اوباما کا کہنا تھا کہ، ’یہ سرد جنگ نہیں ہے۔ یہ امریکہ اور روس کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہے۔‘
XS
SM
MD
LG