رسائی کے لنکس

logo-print

ایشیا بحرالکاہل خطے میں دلچپسی بنیادی قومی مفاد کی مظہر: اوباما


امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایشیا بحرالکاہل خطے میں کبھی بھی اتنا مصروف ہے کہ جو اس سے قبل دہائیوں تک نہیں رہا اور یہ خطہ مستقبل میں مزید اہمیت کا حامل ہو جائے گا۔

منگل کو لاؤس کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ "امریکہ کی ایشیا بحرالکاہل خطے میں دلچسپی نئی نہیں ہے۔ یہ وقت کے ساتھ معدوم نہیں ہو رہی۔ یہ بنیادی قومی مفادات کو ظاہر کرتی ہے۔"

انھوں نے انسانی حقوق کی پاسداری کی ضرورت پر زور اور ہر ملک کی خودمختاری کے احترام سے متعلق حکمت عملی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک چاہے اس کا حجم کتنا ہی ہو، اسے اس پر عمل کرنا چاہیے اور حکومتوں کو انسانی اسمگلنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر اوباما نے ٹرانس پیسیفک شراکت داری کی منظور پر زور دیتے ہوئے اسے ایشیا بحرالکال خطے میں توازن استوار کرنے میں "بنیادی ستون" قرار دیا اور کہا اس تجارتی معاہدے پر پیش رفت میں ناکامی کے اقتصادی مضمرات ہوں گے اور امریکی قیادت کے لیے سوال پیدا کرے گی۔

اس سے قبل اوباما نے وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہا کہ امریکہ اور لاؤس نے باہمی احترام اور "ماضی کے زخموں کو مندمل کرنے کی مشترکہ خواہش" کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز کیا ہے۔

اقتصادیات، ٹیکنالوجی، سکیورٹی، ماحولیات اور انسانی حقوق کے شعبوں میں نئی شراکت داری کا اعلان امریکہ کے صدر براک اوباما کی لاؤس کے صدر بونہانگ ووریچٹ سے دارالحکومت وینتیان میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

اوباما پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے لاؤس کا دورہ کیا اور منگل کو اس ملک کو تین سالوں میں نو کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا جس سے لاؤس کی طرف سے ان بموں کا قومی سروے کرنے میں حصہ ڈالنا ہے جو 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں امریکی فورسز نے یہاں گرائے تھے اور وہ پھٹا نہیں تھے۔

امریکہ نے یہاں تقریباً 22 لاکھ بم گرائے تھے جن کا ایک تہائی پھٹا نہیں تھا اور یہ بم لاؤس کی ترقی کی طرف پیش رفت کو سست روی پر مجبور کرتے رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اوباما نے جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے امریکی اہلکاروں کا کھوج لگانے کے ضمن میں تعاون پر لاؤس کو سراہا۔

لاؤس اس وقت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم "آسیان" کا صدر ہے۔ اس ملک پر انسانی حقوق کی خراب صورتحال کے باعث خاصی تنقید کی جاتی رہی ہے۔

اوباما اور ووریچٹ نے منگل کو ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ "تکلفات سے بالا بات چیت" سے انسانی حقوق کے امور سے متعلق اختلافات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

صدر اوباما جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو یہ یقین دلانے کے لیے کوشاں ہیں کہ امریکہ خطے میں توازن کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آسیان کانفرنس اور پھر مشرقی ایشیا کے ممالک کے کانفرنس کے دوران بھی وہ خطے کی اقوام سے امریکہ کے تعلقات کو مضبوط کرنے پر زور دیں گے۔

XS
SM
MD
LG