رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما، نیتن یاہو ملاقات، مشرق وسطیٰ کے متنازع امور زیرِ بحث


نیتن یاہو نے مسٹر اوباما سے اشارتاً کہا کہ اُنھیں امید ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف لگی معاشی پابندیاں واپس نہیں لے گا۔ اور، اُن کی یہ ’شدید خواہش‘ ہے کہ ’آپ کی قیادت میں‘ امریکہ ’ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے ہمارے مشترکہ ہدف‘ سے نہیں ہٹے گا

امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بدھ کے روز واشنگٹن میں بات چیت کا آغاز کیا، جِس دوران اُن کا لہجہ نرم ، لیکن مشرق وسطیٰ کے معاملات پر اُن کے کلمات پختہ عزم تھے۔

غزہ میں حماس کے شدت پسندوں کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی کے بعد یہ اُن کی پہلی ملاقات تھی۔ مسٹر اوباما نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو ’اسٹیٹس کو‘ کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی راہ تلاش کرنی ہوگی، تاکہ فلسطینی سولینز کی ہلاکتیں بند ہوں، جو واقعات جولائی اور اگست میں 50 روز تک جاری رہے۔

اِس تنازع کے دوران ’غیر متزلزل حمایت‘ پر, مسٹر نیتن یاہو نے امریکی رہنما کو سراہا۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے امکانات ’سنگین تر‘ ہوتے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی رہنما نے مسٹر اوباما سے اشارتا ً کہا کہ اُنھیں امید ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف لگی ہوئی معاشی پابندیاں واپس نہیں لے گا، اور یہ کہ، اُن کی یہ ’شدید خواہش‘ ہے کہ ’آپ کی قیادت میں‘ امریکہ ’ایران کو نیوکلیئر طاقت بننے سے روکنے کے ہمارے مشترکہ ہدف‘ سے نہیں ہٹے گا۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اِس ملاقات سے کچھ ہی روز قبل، مسٹر نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ایران دنیا کو بے وقوف بنا رہا ہے کہ اُس کے خلاف معاشی تعزیرات ہٹائی جائیں، جب کہ اسے اجازت ہو کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرتا رہے۔

اسرائیلی لیڈر نے متنبہ کیا کہ جوہری طاقت رکھنے والا ایران دولت اسلامیہ سے زیادہ خطرناک ہوگا، جو عراق اور شام میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ایک طویل مدت سے، ایران یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، اور اُس کا کہنا ہے کہ مسٹر نیتن یاہو کے خطاب میں وہی مؤقف شامل تھا جس کا مقصد عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کو، بقول ایران، ’سبوتاژ اور خلل انداز‘ کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG