رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما کاخلیج میکسیکو میں تیل کےاخراج سےمتاثرہ علاقےکا چوتھا دورہ


امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ اُن ریاستوں کےباشندوں کی مدد کا عزم رکھتی ہے جو خلیج میکسیکو میں تیل کے بڑھتے ہوئے اخراج کے باعث پیدا ہونے والے معاشی اور ماحولیاتی اثرات سے نبرد آزما ہیں۔

مسٹر اوباما نےمقامی عہدے داروں سے گفتگوکرنے اور تیل کے اخراج سے متاثرہ باشندوں کی شکایات سننے کےلیے پیر کے روز خلیج میکسیکو کی مسی سیپی اور الاباما ریاستوں کا دورہ کیا۔ ناقدین نے انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے 20اپریل کو تیل کی رِگ کے دھماکے سے پھٹنے کے بعد علاقے میں تیل کے اخراج کے معاملے سے نمٹنے میں سست روی سے کام لیا ہے۔

اِس حادثے کے باعث 11کارکن ہلاک ہوئے اور زیرِ زمین تیل کے کنویں کو نقصان پہنچا جِس سے روزانہ ہزاروں بیرل کی مقدار میں تیل خلیج میں بہنا شروع ہوا۔

پیر کے روز الاباما میں بیان دیتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ وہ کثیر ادارتی اقدام کو عمل میں لا رہے ہیں تاکہ خلیج کی سمندری خوراک قابلِ استعمال رہے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اِس بات پر پُر عزم ہیں کہ لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ ادا کیا جائے۔

جب سےبحران شروع ہوا ہے مسٹر اوباما اس سے قبل خلیج کا تین بار دورہ کر چکے ہیں۔ اِس سے پیشتر اُنھوں نے لوزیانہ پر دھیان مرکوز رکھا، جس ریاست کے ساحل پر تیل کا بہاؤ سب سے پہلے اثر انداز ہوا۔

مسٹر اوباما، فلوریڈا میں ایک رات کے قیام کے بعد منگل کو واشنگٹن لوٹیں گے، اور اوول آفس سے ٹیلی ویژن پر تقریر کریں گے۔

وہ بدھ کو برٹش پیٹرولیم تیل کمپنی کے منتظمیں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ وہ اُن پر زور دیں گے کہ بحران سے اثرانداز ہونے والوں کے دعووں کی ادائگی کے لیے خصوصی اکاؤنٹ کا اجراکریں۔

XS
SM
MD
LG