رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے خلاف طاقت کے استعمال کا امکان بدستور موجود ہے: اوباما


امریکی صدر نے کہا کہ شام کے خلاف ردعمل کا اظہار نہ کرنے سے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں بشمول ترکی، اردن اور اسرائیل کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا خطرہ ہو سکتا ہے اور یہ مسٹر اسد کے اتحادی ایران کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کو " امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد" میں قرار دیا ہے۔

منگل کو ٹی وی پر قوم سے اپنے خطاب میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ شام میں جاری بحران کے پہلے دو سالوں میں انہوں نے مزاحمت نہیں کی کیونکہ ان کے بقول "امریکہ کسی کی خانہ جنگی کو طاقت سے حل نہیں کرسکتا۔" لیکن ان کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو صورتحال میں " سنگین تبدیلی" واقع ہوئی جب شام کےصدر بشار الاسد کی حکومت نے دمشق کے قریب بچوں سمیت ایک ہزار سے زائد لوگوں پر زہریلی گیس استعمال کرتے ہوئے انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اور عالمی برادری ردعمل کا اظہار کرنے میں ناکام رہی تو مسٹر اسد اور دوسرے آمروں کے پاس کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ وہ کیمیائی ہتھیار دوبارہ استعمال نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں امریکی فوجیوں کو کیمیائی جنگ کا سامنا ہو سکتا ہے اور یہ دہشت گردوں کے لیے بھی ان ہتھیاروں کو حاصل کرنا آسان ہو جائے گا جو انھیں شہریوں کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں۔

صدر نے کہا کہ شام کے خلاف ردعمل کا اظہار نہ کرنے سے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں بشمول ترکی، اردن اور اسرائیل کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا خطرہ ہوسکتا ہے اور یہ مسٹر اسد کے اتحادی ایران کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے۔

مسٹر اوباما کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ شام پر امریکی کارروائی کا مقصد مسٹر اسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے روکنا اور ان کے استعمال کی صلاحیت کو ختم کرنا اور دنیا پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ امریکہ ان کے استعمال کو برداشت نہیں کرے گا۔

لیکن صدر نے منگل کو آنے والی اس تازہ خبر کہ شام نے روس کی طرف سے پیش کی گئی تجویز پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنڑول میں دے، کانگریس کو شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر رائے شماری موخر کرنے کا کہا۔
مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ اس تجویز کے کامیاب ہونے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن ان کے بقول اس میں کیمیائی ہتھیاروں کے خطرے کو طاقت کے استعمال کے بغیر ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو اس بات پر اختلاف نہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے اور ان کے بقول امریکی حکام جانتے ہیں کہ صدر اسد کی حکومت اس کی ذمہ دار تھی۔

مسٹر اوباما نے کہا امریکہ " دنیا کا پولیس والا" نہیں لیکن جب "محدود خطرے اور کوشش" سے بچوں کو زہریلی گیس کے ذریعے مرنے سے روکا جا سکتا ہے اور اسی طرح آگے مستقبل میں امریکی بچوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے تو ایسے اقدام کرنے چاہیئں۔

ادھر امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ روس کے منصوبے پر گہری نظر رکھے گی۔ وہ اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے سفارتکاروں نے منگل کو قرارداد کے ایک مسودے پر کام کیا جس میں اپنے وعدے پر قائم نہ رہنے کی صورت میں شام کے خلاف سخت کارروائی کا کہا گیا ہے۔

صدر اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں امریکہ شام پر حملے کے لیے تیار ہے۔ لیکن روس کے صدر ولادیمر پوٹن کا کہنا ہے کہ شام سے متعلق منصوبہ اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے جب امریکہ طاقت کے استعمال کی دھمکی کو ترک کردے۔

شام کے مرکزی حزب مخالف "سیریئن نیشنل کوالیشن" نے روس کی تجویز کو بے معنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سے شام کی فوجوں کو روایتی ہتھیاروں سے لڑائی جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔
XS
SM
MD
LG