رسائی کے لنکس

logo-print

امن مذاکرات: صدر اوباما کی مشرق وسطیٰ کے راہنماؤں سے ملاقاتیں


اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات جمعرات سے واشنگٹن میں دوبارہ شروع ہورہے ہیں۔ 2008ء سے تعطل میں پڑے ہوئے مذاکرات امریکی کوششوں سے دوبارہ شروع ہورہے ہیں اورمذاکرات کی کامیابی کے لیے بدھ کے روز صدر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان واشنگٹن میں براہ راست امن مذاکرات کے نئے دور سے قبل بدھ کے روز مشرق وسطیٰ کےراہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں شروع کردی ہیں۔

صدر نے بدھ کی ملاقاتوں کے دوسرے سیشن میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کے اختتام پر کہا ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم مسٹر عباس نے وہائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے وقت کو ئی بیان نہیں دیا۔

ملاقات سے قبل فلسطینی ترجمان نبیل ابو رنینا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندی میں توسیع نہ کی تو مذاکرات ناکام ہوجائیں گے۔ یہ پابندی 26 ستمبر کو ختم ہورہی ہے۔

بدھ کی صبح مسٹر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو سے ملاقات کی۔ ایک مشترکہ کانفرنس میں دونوں راہنماؤں نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والے اس حملے کی مذمت کی جس میں چار اسرائیلی آباد کار ہلاک ہوگئے تھے۔

مسٹر نتن یاہو نے صدر اوباما کے ساتھ اپنی بات چیت کو کھلا ، مفید اور سنجیدہ قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی کے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جن سے اس طرح کے حملوں کو روکنے میں مدد مل سکے۔

جمعرات کو اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار 2008ء کے بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔

مذاکرات کاروں کو توقع ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی سیکیورٹی کے مسائل پر ایک سال کے اندر کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ اسرائیل ان علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کردے جنہیں وہ اپنی مستقبل کی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG