رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما کا فلم ’دی انٹرویو‘ کی نمائش کے فیصلے کا خیرمقدم


صدر اوباما نے کہا کہ سونی نے فلم کی نمائش کو منسوخ کر کے غلطی کی تھی اور کہا کہ اس سے ایک مثال قائم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ امریکہ میں ’سنسرشپ‘ کا نفاذ شروع ہو گیا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے 'سونی پکچرز' کی طرف سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے قتل کے منصوبے پر بنائی گئی متنازع مزاحیہ فلم 'دی انٹرویو' کو ریلیز کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔

گزشتہ ہفتے سونی نے اپنے کمپیوٹر نظام پر نامعلوم ہیکروں کی طرف سے حملے کے بعد اس فلم کو ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سائبر حملہ کرنے والوں نے فلم کو شیڈول کے مطابق ریلیز کرنے کی صورت میں مزید نقصان کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ نے اس سائبر حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا کو قرار دیا تھا۔

بدھ کو سونی نے فلم کو ریلیز نا کرنے کے پہلے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 25 دسمبر کو ایک درجن کے لگ بھگ تھیٹروں پر اس فلم کی نمائش کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایرک شلز نے ایک بیان میں کہا کہ صدر نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ "اس سے لوگ فلم کے بارے میں اپنا انتخاب کر سکیں گے"۔

صدر اوباما نے کہا کہ سونی نے فلم کی نمائش کو منسوخ کر کے غلطی کی تھی اور کہا کہ اس سے ایک مثال قائم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ امریکہ میں ’سنسرشپ‘ کا نفاذ شروع ہو گیا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے سونی پر ہونے والے سائبر حملے کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم عہدیدار نا ہی یہ تسلیم کر رہے ہیں اور نا ہی انکار کہ آیا امریکہ نے ردعمل میں اس ہفتہ شمالی کوریا میں مختصر وقت کے لیے انٹرنیٹ کو بند کر دیا۔

وزارت خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ہارف نے کہا کہ "میں یہ شمالی کورین پر چھوڑتی ہوں کہ وہ اس بارے میں بتائیں اگر ان کا انٹرنیٹ کام کر رہا تھا اور اگر نہیں تو کیوں نہیں۔ ہم اس حوالے سے کسی بھی ممکنہ امریکی ردعمل کے متعلق سوال کے جواب میں کوئی بھی بات نہیں کریں گے اور میں آپ کو یہ فرض کرنے کے متعلق احتیاط کرنے کا کہوں گی کہ اگر میں ان پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہی تو آپ اس سے کوئی اور چیز تصور کریں"۔

شمالی کوریا نے اس تعطل کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے جو تقریباً نو گھنٹوں تک جاری رہا۔ تاہم اس نے سونی پکچرز پر ہیکنگ کرنے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس شواہد موجود ہیں کہ اس سائبر حملے کے پیچھے پیانگ یانگ کا ہاتھ ہے جس کی وجہ سے کمپنی کی ای میلز، ریلیز ہونے والی فلم اور کارکنوں کے متعلق معلومات افشا ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG