رسائی کے لنکس

logo-print

شام پر حملہ: اوباما کانگریس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں


مسٹر اوباما سینیٹر جان مکین کے ساتھ پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما شام کے خلاف فوجی کارروائی کے سلسلے میں امریکی کانگریس کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بعض قانون سازوں نے مسٹر اوباما کے منصوبے اور اس کی بنیاد بننے والے شواہد پر روس کی جانب سے سوالات کی وجہ سے شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر اوباما سینیٹر جان مکین کے ساتھ پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔

مکین شام کے خلاف بھرپور کارروائی کی حمایت کرتے آئے ہیں اور اُنھوں نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکہ کو محدود فضائی حملوں سے بڑھ کر کارروائی کرنی چاہیئے۔

کانگریس کے بعض اراکین نے اس موقف کی مخالفت کرتے ہوئے اس مسئلے میں فوج کو شامل کرنے کے حوالے سے سوالات اُٹھائے ہیں۔

امریکی حکام نے اتوار کو بعض قانون سازوں کو اُن خفیہ معلومات سے آگاہ کیا جن کے مطابق شامی فوج نے دارالحکومت دمشق کے قریب گزشتہ ماہ زہریلی کیمیائی گیس کا استعمال کیا تھا، جس سے 1,000 سے زائد افراد کی موت واقعے ہوئی۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے پیر کو کہا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اطمینان بخش نہیں۔

لاروف کا کہنا تھا کہ اگر حکام امریکہ سے مزید معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اُنھیں کہا جاتا ہے کہ وہ معلومات خفیہ ہیں اور اُن کو افشاں نہیں کیا جا سکتا۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے بھی پیر کو تصدیق کی کہ امریکہ نے چینی حکام کو خفیہ معلومات سے آگاہ کیا، لیکن چین نے امریکہ کی جانب سے یک طرفہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی پر تشویش کا اظہار کیا۔

اقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معائنہ کاروں نے گزشتہ ہفتے دمشق کے قریب حملے کے مقام کا دورہ کیا تھا، جہاں سے حاصل کیے گئے نمونوں کو پیر کے روز جانچ کے لیے لیبارٹری منتقل کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ تنظیم کے رکن ممالک کو نتائج سے آگاہ کریں گے۔

شام کی حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تردید کر چکی ہے، اور اس کا دعویٰ ہے کہ باغیوں نے فوجیوں کے خلاف زہریلی گیس استعمال کی۔
XS
SM
MD
LG