رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما پوٹن کی ملاقات میں شام اور یوکرین کے مسئلے پر بات


دونوں صدور نے اتفاق کیا کہ ان کی فوجوں کو آپس میں بات چیت کرنی چاہیئے تاکہ علاقے میں آپسی تنازع سے بچا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پیر کو امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوٹن سے ملاقات کی اور شام کے مسئلے پر ایک دوسرے کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے تنازع میں صدر بشارالاسد کے کردار پر اختلاف کیا مگر اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کو عسکری طور پر ایک دوسرے کے راستے میں نہیں آنا چاہیئے۔

نیویارک میں ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ’’ایسا نہیں تھا کہ ملاقات میں کوئی ایک رہنما دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا ہو۔ میرا خیال ہے کہ دونوں کی مشترکہ خواہش تھی کہ شام کے مسئلے کا حل نکالا جائے۔‘‘

دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسال میں پہلی مرتبہ ہونے والی ملاقات کے بارے میں عہدیدار نے کہا کہ یہ ’’مرکوز‘‘ اور ’’رسمی‘‘ تھی جس میں روس کے عزائم کے بارے میں وضاحت ہوئی ہے۔ ’’ان کا مقصد داعش کے خلاف کارروائی کرکے شامی حکومت کی مدد کرنا ہے۔‘‘

عہدیدار نے کہا کہ امریکہ شام میں روس کی افواج میں اضافے کو مثبت تبدیلی کے لیے

خطرناک نہیں سمجھتا مگر انتظامیہ کا خیال ہے کہ مستقبل میں روسیوں کو اپنے اقدامات کے تنائج بھگتنا پڑیں گے۔

عہدیدار نے کہا کہ اگر روس صرف داعش کے خلاف اپنی فوج استعمال کرے گا تو ایسا کرنا ٹھیک ہو گا۔ ان کے بقول اگر وہ اپنی طاقت بشارالاسد کو عوام کے خلاف مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرے گا تو یہ منفی عمل ہو گا۔

عہدیدار نے وضاحت کی کہ روس اسد کو انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط دفاع کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

دونوں صدور نے اتفاق کیا کہ ان کی فوجوں کو آپس میں بات چیت کرنی چاہیئے تاکہ علاقے میں آپسی تنازع سے بچا جا سکے۔

دونوں صدور نے ملاقات کے نصف دورانیے میں شام پر بات کی جبکہ باقی نصف حصے میں یوکرین کے مسئلے پر بحث کی۔

عہدیدار نے بتایا کہ صدر نے یوکرین کی حکومت کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ ’’اوباما نے اگلے چند ماہ کے دوران منسک معاہدے پر عملدرآمد کا بھی ذکر کیا۔‘‘

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقاریر میں دونوں صدور نے بہت متضاد خیالات کا اظہار کیا تھا۔

صدر اوباما نے کہا تھا کہ شام کی موجودہ صورتِ حال کی ذمہ داری صدر اسد پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے پرامن مظاہرین پر تشدد کیا اور انہیں ہلاک کیا۔ اس کے برعکس، روسی صدر ولادیمر پوٹن نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ داعش اور پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکومت کو مضبوط کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

XS
SM
MD
LG