رسائی کے لنکس

logo-print

پناہ گزینوں کی لہر ایک 'عالمی مسئلہ' ہے: صدر اوباما


امریکی صدر نے کہا کہ بہت سی ریاست اپنے عوام کا خیال رکھنے میں ناکام ہو رہی ہیں اس لیے پناہ گزینوں کو مسئلہ کئی دہائیوں تک جاری رہے گا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یورپ میں پناہ گزینوں کی حالیہ لہر صرف یورپی مسئلہ نہیں، " یہ عالمی مسئلہ ہے۔"

یہ بات انھوں نے جمعہ کو میری لینڈ میں فورٹ مئیڈ میں ایک تقریب کے دوران کہی جہاں صدر نے دنیا بھر میں تعینات امریکی فوجیوں کے سوالوں کے جواب دیے جو انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور سیٹیلائٹ وڈیو کے ذریعے پوچھے تھے۔

یہ تقریب 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں ہوئے دہشت گرد حملوں کے 14 سال پورے ہونے پر منعقد کی گئی تھی۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کا موضوع رواں ماہ کے اواخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی زیر بحث آئے گا اور رہنماؤں کو چاہیئے وہ اس مسئلے کے بین الاقوامی ردعمل میں کسی موثر حکمت عملی کے بارے میں سوچیں۔ ان کے بقول کوئی "ایک ملک ان مسائل کو اکیلا حل نہیں کرسکتا۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کا ایک اہم اتحاد ہونے کے ناطے نیٹو کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

صدر نے کہا کہ پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کا واحد راستہ اس مسئلے کے جڑ تک پہنچنا ہے۔

"یہ پرانا قصہ ہے کہ اگر آپ دریا میں ڈوبتے ہوئے لوگ دیکھیں تو آپ کا کام ہے کہ جائیں اور کوششیں کریں کہ اگر آپ ان میں سے کسی کو بچا سکیں، لیکن آپ کو یہ بھی کرنا ہو گا کہ آپ اس طرف جائیں اور یہ لوگ آ رہے ہیں اور دیکھیں کہ درحقیقت ہو کیا رہا ہے۔"

ان کے بقول پناہ گزینوں کے بہاؤ شام میں طرز حکمرانی کا انہدام اور وہاں داعش کی پیش رفت ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ بہت سی ریاست اپنے عوام کا خیال رکھنے میں ناکام ہو رہی ہیں اس لیے پناہ گزینوں کو مسئلہ کئی دہائیوں تک جاری رہے گا۔

مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جنگی صورتحال اور دیگر پرتشدد تنازعات کے باعث اپنے ملک چھوڑ کر یورپ کا رخ کر رہے ہیں اور حالیہ ہفتوں میں ان کی یورپ آمد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

یورپی ملکوں میں ان پناہ گزینوں کو اپنے اپنے ہاں بسانے کے معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

امریکہ یہ کہہ چکا ہے کہ وہ دس ہزار شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دے گا۔

XS
SM
MD
LG