رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کی فتح امریکہ کے لیے خطرہ ہوگی: اوباما


امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں اگر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ انتخاب جیتتے ہیں تو ملک کے لیے خطرناک ہو گا۔

اوباما نے بدھ کو ڈیموکریٹ ہلری کلنٹن کے لیے شمالی کیرولائنا کے شہر چیپل ہل میں منعقدہ انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ صدارتی امیدواروں کے لیے اس ریاست میں کامیابی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔

صدر اوباما نے شمالی کیرولائنا کے ان ووٹرز کو متنبہ کیا جو یہ سوچ کر مطمیئن ہو کر بیٹھے ہیں کہ ان کا ووٹ اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخاب کے روز گھروں میں بیٹھے رہنا ان لوگوں کے بہترین مفاد میں ہو گا جو ان شہریوں کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے خاص طور پر سیاہ فام ووٹرز کو مخاطب کیا جو ان کے بقول اس باعث زیادہ پرجوش نہیں کہ اوباما کا نام اس برس بیلٹ پیپر پر نہیں ہے۔

ٹام جوئنر ریڈیو شو میں بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ "ہر سب کو یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں کہ جو کچھ ہم نے کیا ہے اس کا دار و مدار اس پر ہے جسے ہم یہ اقتدار سونپیں گے، وہ ایسا شخص ہونا چاہیے جو ان چیزوں پر بھروسہ کرے جس پر میں نے کیا۔"

رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کو کلنٹن پر معمولی برتری حاصل ہے۔

ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو فلوریڈا میں اپنی مہم کے دوران کہا کہ اوباما کلنٹن کے لیے مہم میں حصہ لینا بند کریں اور اوول آفس واپس جائیں جہاں سے ان کا تعلق ہے، روزگار پیدا کریں اور امریکی سرحدوں پر نظر رکھیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کلنٹن کی صدارت ایک "غیرمعمولی اور طویل آئینی بحران" پیدا کر دے گی۔ ان کے بقول بطور وزیر خارجہ ای میلز سے متعلق ان کا طریقہ کار کلنٹن کو زیر تفتیش رکھے گا۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ہلری کلنٹن کی مزید ای میلز سے متعلق تحقیقات کی جائیں گی۔

ڈیموکریٹ امیدوار ہلری کلنٹن نے اس اعلان کے بعد یہی کہا تھا کہ ان کا بھی وہی نتیجہ نکلے گا جو جولائی میں ہونے والی تحقیقات کا آیا تھا۔

نیواڈا میں بدھ کو اپنی صدارتی مہم کے دوران ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور امریکی صدر منتخب ہو کر حلف اٹھانے کے تصور کو روکیں اور یہ سوچیں کہ ایک ایسا شخص جو خواتین کی تحقیر کرے، معذوروں اور اقلیتوں کی تذلیل کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنی شخصیت کے بارے میں سب کچھ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ کس طرح کے صدر ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG