رسائی کے لنکس

logo-print

سائبر حملوں میں اضافے پر صدر اوباما کی تشویش


صدر براک اوباما نے امریکہ کو لاحق 'سائبر' خطرات میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے کئی خطرات کے پیچھے بعض "حکومتوں" کا ہاتھ ہے۔

صدر براک اوباما نے امریکہ کو لاحق 'سائبر' خطرات میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے کئی خطرات کے پیچھے بعض "حکومتوں" کا ہاتھ ہے۔

بدھ کو نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر اوباما نے بعض اراکینِ کانگریس کے ان خدشات کو دہرانے سے تو گریز کیا کہ امریکہ اور چین کے درمیان باقاعدہ 'سائبر جنگ' جاری ہے، لیکن انہوں نے امریکہ پر ہونے والے 'سائبر' حملوں میں بعض ممالک کے ملوث ہونے کی نشاندہی ضرور کی۔

'اے بی سی نیوز' کو دیے جانے والے انٹرویو میں صدر اوباما کا کہنا تھا، "جنگ کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔۔۔ 'سائبر' جاسوسی یا 'سائبر حملوں' اور ایک باقاعدہ جنگ میں خاصا واضح فرق ہے"۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کو لاحق 'سائبر' خطرات میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے کئی خطرات کو پروان چڑھانے میں بعض حکومتوں کا ہاتھ ہے۔

امریکی صدر کے بقول، "ان میں سے کئی کاروائیوں کو بعض ریاستوں کی مد دحاصل ہے جب کہ دیگر کے پیچھے جرائم پیشہ عناصر کارفرما ہیں"۔

اپنے انٹرویو میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے چین اور بعض دوسرے ریاستی عناصر پر واضح کردیا ہے کہ انہیں بین الاقوامی قوانین اور روایات کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ان کے بقول اس معاملے پر واشنگٹن نے بعض ممالک کے ساتھ "سخت موقف" اپنایا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ 'سائبر' حملے اربوں ڈالر کے نقصان اور صنعتی رازوں کی چوری کا سبب بن کر امریکہ کی تقابلی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

صدر اوباما بدھ کو امریکہ کی بعض بڑی کمپنیوں کے سربراہوں سے بھی ملاقات کر رہے ہیں جس میں ہونے والی بات چیت میں 'وہائٹ ہائوس' کے مطابق امریکہ میں 'سائبر' سیکیورٹی کو بہتر بنانے کا معاملہ سرِ فہرست ہوگا۔

چند روز قبل امریکی حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ صدر اوباما کے اہل و عیال کے بھی ہیکرز کا نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اپنے انٹرویو میں صدر اوباما نے ان اطلاعات کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی جن کے مطابق ہیکرز نے خاتونِ اول مشیل اوباما اور اہم عہدوں پر فائز بعض امریکی شخصیات کی نجی اور کاروباری تفصیلات انٹرنیٹ پر جاری کردی ہیں۔

لیکن صدر کا کہنا تھا کہ انہیں ان اطلاعات کے درست ثابت ہونے پر کوئی حیرت نہیں ہوگی۔
XS
SM
MD
LG