رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ دنیا کے مسائل تنہا حل نہیں کرسکتا، صدر اوباما


شام میں جاری خانہ جنگی کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ، شام کے مسئلے کے حل کے لیے ایران اور روس سمیت تمام ملکوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ چاہے کتنا ہی طاقت ور ملک کیوں نہ ہو، پوری دنیا کے مسائل تنہا حل نہیں کرسکتا۔

پیر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ نے عراق میں سبق سیکھا ہے کہ طاقت اور پیسے کے زور پر کسی دوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک کے مسائل پیچیدہ نوعیت کے ہیں جنہیں حل کرنا صرف امریکہ کے بس کی بات نہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ عالمی مسائل اور تنازعات کے حل کےلیے مختلف اقوام کو باہمی تعاون میں اضافہ اور بڑے ممالک کے رہنماؤں کو عالمی سفارت کاری میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی سیاست تبدیل ہورہی ہے اور علاقوں اور ملکوں پر قابض ہونا اب طاقت کی علامت نہیں رہا۔ دنیا کے لیے تصادم اور طاقت کے پرانے طریقوں کی طرف واپس لوٹنا بھی ممکن نہیں رہا لہذا اختلافات کے حل کے لیے باہمی تعاون اور رابطوں پر انحصار کرنا ہوگا۔

ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری تنازع نے ثابت کیا ہے کہ اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کا جوہری معاہدہ بین الاقوامی نظام کی مضبوطی کا عکاس ہے اور عارضی نوعیت کا نہیں۔

اپنے خطاب میں صدر اوباما نے اس تاثر کی نفی کی کہ روس کے خلاف پابندیاں سرد جنگ والی ذہنیت کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک مضبوط روس دیکھنا چاہتا ہے جو عالمی سیاست میں امریکہ کے شانہ بشانہ کردار ادا کرسکے۔

شام میں جاری خانہ جنگی کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ شام کے تنازع کے حل کے لیے وہاں حکومت کی "منظم تبدیلی" ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک شام کے مسئلے کے حل کے لیے ایران اور روس سمیت تمام ملکوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے۔ لیکن، صدر اوباما کے بقول، ہر ایک کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اتنی تباہی اور خون بہنے کے بعد اب شام میں "جنگ سے پہلے کی صورتِ حال " واپس نہیں لائی جاسکتی۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں شام کے صدر بشار الاسد کو ایک "غاصب اور ظالم آمر" قرار دیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوباما کہنا تھا کہ مسلمانوں کو داعش جیسے شدت پسند نظریات کو مسترد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دنیا میں داعش جیسے خونخوار گروہوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ داعش کے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ تمام ممالک شام کی خانہ جنگی کا سیاسی حل نکالنے کی کوششوں میں بھی باہم تعاون کریں۔

XS
SM
MD
LG