رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما کا صف اول کے ڈیموکریٹ امیدواروں کے بارے میں اظہار خیال


’پولیٹیکو‘ میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں صدر اوباما نے اپنی سابق وزیر خارجہ اور 2008 کی صدارتی دوڑ میں سخت ترین حریف ہلری کلنٹن کی ڈھکی چھپی حمایت کی۔

صدر براک اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے امیدواروں کے بارے میں ایک انٹرویو میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی۔

انہوں نے صف اول کے ڈیموکریٹک امیدواروں ہلری کلنٹن اور برنی سینڈرس کی تعریف کے ساتھ ساتھ ان پر تنقید بھی کی۔

آئیوا میں صدارتی نامزدگی کے لیے ووٹنگ کے پہلے مرحلے سے ایک ہفتہ قبل ’پولیٹیکو‘ میگزین کے پروگرام ’آف میسیج‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر اوباما نے اپنی سابق وزیر خارجہ اور 2008 کی صدارتی دوڑ میں سخت ترین حریف ہلری کلنٹن کی ڈھکی چھپی حمایت کی۔

’آف میسیج‘ کے مطابق انہوں نے انٹرویو میں ’’بغیر کسی تحفظات کے بار بار ہلری کلنٹن کی تعریف کی‘‘ اگرچہ انہوں نے ان کی کچھ کمزویوں کا بھی ذکر کیا مثلاً ہلری کے بات کرنے کا انداز۔

صدر نے ان کے مخالف ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرس کے لیے ’’محتاط‘‘ حمایت کا اظہار کیا جنہیں وہ صدارت کی شدید ضروریات پوری کرنے کا اہل سمجھنے کی بجائے ایک بااصول شخصیت کے طور پر زیادہ دیکھتے ہیں۔

’’ایک چیز جو ہر کوئی سمجھتا ہے وہ یہ ہے کہ اس منصب میں آپ کے پاس کسی ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی آزادی نہیں۔‘‘

اوباما کے بعد آنے والا صدر ان کے کام پر تنقید کر سکتا ہے۔ رپبلیکن پارٹی کے صف اول کے امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیڈ کروز نے ان کے اہم اقدامات کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس میں صدر اوباما کا صحت سے متعلق قانون بھی شامل ہے۔

صدر اوباما نے اس پر کہا کہ صدارت ایک ’’ریلے ریس‘‘ کی طرح ہے اور جو بھی عہدہ صدارت سنبھالے گا وہ ان کے کام کو آگے بڑھا سکتا ہے یا اس میں سے کچھ اقدامات کو ختم کر سکتا ہے۔

اوباما نے پہلی صدارتی دوڑ میں آئیوا میں اپنا وقت یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ’’امید اور تبدیلی‘‘ کے پیغام کو لے کر ان کی 2008 کی مہم آگے بڑھی۔ انہوں نے اسے ’’کیریئر کا سب سے اطمینان بخش سیاسی دور قرار دیا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ پیغام آج کے امیدواروں کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

’’میرا خیال ہے کہ وہ امیدوار جو امید دلا سکتا ہے وہی امیدوار ہو گا جس کی طرف طویل مدت کے دوران امریکی عوام کشش محسوس کریں گے۔‘‘

XS
SM
MD
LG