رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے لیے اتحادی اعانت فنڈ کی مد میں ایک ارب ڈالر کی منظوری


معروف تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ منظوری دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے دفاعی اخراجات کے بل کی کانگریس سے منظؤری کے بعد اس پر دستخط کر دیے ہیں اور اس میں پاکستان کے لیے اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے۔

اس فنڈ کے ذریعے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی مشرف اعانت فراہم کی جائے گی۔

فنڈزکی فراہمی امریکی کانگریس کے لیے یہ یقین دہانی ضروری ہوگی کہ پاکستان انسداد دہشت گردی میں شدت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران کشیدگی در آئی تھی لیکن گزشتہ ماہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ کے بعد خصوصاً دفاع اور سلامتی کے شعبے میں روابط میں تیزی آئی ہے۔

فوج نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جون سے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 1200 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

فوجی آپریشن سے حاصل ہونے والے نتائج کو آرمی چیف کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی عہدیداروں کی طرف سے بھی سراہا گیا۔

معروف تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ منظوری دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔

"آرمی چیف کے دورہ امریکہ کے بعد کچھ صورت حال ہمیں بہتر نطر آتی ہے اور اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں جو آپریشن ہے وہ چونکہ واضح اور جامع انداز میں بلاامتیاز ہو رہا ہے اس کی وجہ سے بھی میرا خیال یہ ہے کہ امریکہ کے شکوک و شبہات کم ہوئے ہیں اور اس لیے امریکہ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2015 میں تعاون بڑھنے کے امکانات موجود ہی۔"

انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی طرف سے کیے گئے اخراجات کی ادائیگی اتحادی اعانتی فنڈ کے ذریعے کی جاتی ہے۔

اسی ماہ کے اواخر تک افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد بھی جنگ سے تباہ حال اس ملک میں نیٹو اور امریکہ کے تقریباً 12 ہزار فوجی موجود رہیں گے جو مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کرتے رہیں گے۔

اس تناظر میں بھی پاکستان کے ساتھ امریکہ کے فوجی روابط کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG