رسائی کے لنکس

logo-print

سُپریم کورٹ کے فیصلے پر اوباما کی نکتہ چینی


امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انتخابی مہم کے لیے رقوم کی فراہمی کے بارے میں اس ہفتے سُپریم کورٹ کا فیصلہ مفاد پرست عناصر کی “بہت بڑی فتح” ہے۔ اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ قانون سازی کے ذریعے اس کا توڑ کریں گے۔

عدالتِ عالیہ نے جمعرات کے روز چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں سے کیے جانے والے اپنے فیصلے کے تحت امریکہ میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے بڑی بڑی کمپنیوں اور لیبر یونینوں کی جانب سے رقوم کی فراہمی پر ایک طویل عرصے سے عائد پابندیوں کو ختم کر دیا ہے۔اس فیصلے میں عشروں پرانے اُس عدالتی فیصلے کو ساقط کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت، کمپنیوں اور لیبر یونینوں پر پابندی عائد کرسکتی ہے کہ وہ انتخابی مہم کے اشتہارات کے لیے رقوم کی ادائیگی کے مقصد سے اپنے خزانوں کو استعمال نہیں کرسکتیں۔

سُپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے مطابق انتخابی مہم کے لیے رقوم کی فراہمی سے متعلق پُرانے قانون میں آزادی تقریر کے آئینی حق کی خلاف ورزی کی گئى تھی۔

صدر اوباما نے اپنی ہفتہ وار تقریر میں سُپریم کورٹ کے فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ”خود جمہوریت پر” ضرب لگی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس فیصلے نے مخصوص مفادات کے حامل عناصر کے لیے غیر محدود رقوم کی فراہمی کے دروازے کھول دیے ہیں اور اس نے لابی کرنے والوں کو منتخب عہدے داروں کو اپنے مفادات کے مطابق ووٹ دینے پر آمادہ کر نے اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں سزا دینے کے لیے ایک نیا آلہٴ کار فراہم کر دیا ہے۔

صدر نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عملے کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ دونوں پارٹیوں کی جانب سے اس فیصلے کا جواب تیار کرنے کے لیے فوری طور پر کانگریس کے ارکان کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کر دے۔

XS
SM
MD
LG