رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی: اوباما


مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ ’اب ہم اس معاملے کے مربوط حل کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔ میں ایسے سمجھوتے میں دلچسپی رکھتا ہوں، جس کے تحت ایران کے لیے جوہری ہتھیار کے حصول میں ہر قدم پر روک لگائی جائے۔ ہر قدم پر‘

اسرائیلی سلامتی کو یقینی بنانے کے امریکی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، امریکی صدر براک اوباما نے اس بات پر زور دیا ہےکہ ایران کو ’کسی طور پر بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

اُنھوں نے یہ بات جمعے کے روز واشنگٹن کے ایک بڑے سائناگاگ کا دورہ کرتے ہوئے کہی۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ایران، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان گذشتہ ماہ جوہری تنازع پر سمجھوتے کے خدوخال پر ہونے والی اتفاق رائے کے نتیجے میں ’پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام کی جُزیات پر روک لگانے اور اُسے ترک کرنے میں‘ کامیابی ہوئی ہے۔

صدر نے کہا کہ ’اب ہم اس معاملے کے مربوط حل کی کوشش کررہے ہیں‘۔

بقول اُن کے، ’میں کسی خراب سمجھوتے کو قبول نہیں کروں گا۔ اس سمجھوتے پر میرے دستخط ہوں گے۔ اس لیے، اس معاملے میں کسی اور کو مجھ سے زیادہ ذاتی دلچسپی نہیں ہو سکتی کہ میں اپنے عہد کا پاس رکھوں‘۔

ایران کے مذاکرات کار اور دوسرا فریق جس میں برطانیہ، چین، فرانس، روس، امریکہ اور جرمنی شامل ہے، ’فریم ورک سمجھوتے‘ کو 30 جون تک حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام پر روک لگائی جا سکے، جس کے عوض ایران کے خلاف عائد معاشی تعزیرات میں نرمی برتی جائے گی۔
مسٹر اوباما نے کہا کہ’میں ایسے سمجھوتے میں دلچسپی رکھتا ہوں، جس کے تحت ایران کے لیے جوہری ہتھیار کے حصول میں ہر قدم پر روک لگائی جائے۔ ہر قدم پر‘۔

بقول اُن کے، اور میں نے یہ بات واضح کردی ہے کہ جب معاملہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار سے باز رکھنے کا ہو،تو اس کے لیے ہر آپشن کھلا ہے، اور ہر چیز پر بات ہوگی‘۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو ایران کے ساتھ ’فریم ورک سمجھوتے‘ کے مخالف ہیں، جسے وہ ایک ’کمزور‘ سمجھوتا خیال کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG