رسائی کے لنکس

logo-print

امیگریشن اصلاحات پر صدر اوباما اپنے اختیارات استعمال کریں گے


وائٹ ہاوس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سابق صدر آئزن ہاور تک لگ بھگ دونوں ہی جماعتوں کے بننے والے صدور نے امیگریشن کے مسائل حل کرنے کے لیے ایگزیکٹو اختیارات استعمال کیے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کانگریس کو ایک طرف رکھتے ہوئے امیگریشن سے متعلق اپنے ایگزیکٹو آرڈر کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ اوباما جمعرات کو قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ اپنے منصوبے کی تفصیلات کا اعلان کریں گے جو ان کے بقول ٹوٹے ہوئے نظام کو درست کرنے کے کا منصوبہ ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ اس میں پچاس لاکھ تک غیر قانونی تارکین وطن کو تحفظ حاصل ہو سکے گا اور ان کے ورک پرمٹ بھی قانونی ہوجائیں گے، لیکن ان کے لیے وفاقی سہولتیں جیسے کہ صحت عامہ اور محصولات میں معاونت حاصل نہیں ہوسکے گی۔

اس منصوبے سے امریکی شہریوں کے والدین اور بیویوں کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ صدر کے اس اقدام سے امریکی سرحدوں پر سکیورٹی میں اضافہ، معیشت کو مضبوطی اور چھپے ہوئے لاکھوں لوگوں کو سامنے آکر قانون کے مطابق رہنے کا موقع ملے گا۔

کانگریس میں بعض ریپبلکنز نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں، لیکن ترجمان ارنسٹ کا کہنا ہے کہ سابق صدر آئزن ہاور تک لگ بھگ دونوں ہی جماعتوں کے بننے والے صدور نے امیگریشن کے مسائل حل کرنے کے لیے ایگزیکٹو اختیارات استعمال کیے۔

صدر ایک عرصے سے ملک کے امریگریشن قوانین میں جامع تبدیلی کے حامی رہے ہیں لیکن وہ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاملے پر اپنے طور پر عمل نہ کر سکے۔

گزشتہ سال ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ " میں امریکہ کا صدر ہوں، میں امریکہ کا بادشاہ نہیں ہوں۔ میرا کام منظور ہونے والے قوانین کا نفاذ ہے۔ کانگریس نے ابھی تک اس میں تبدیلی نہیں کی جسے میں امیگریشن کا ٹوٹا ہوا نظام کہتا ہوں۔"

XS
SM
MD
LG